سورة الزخرف - آیت 8

فَأَهْلَكْنَا أَشَدَّ مِنْهُم بَطْشًا وَمَضَىٰ مَثَلُ الْأَوَّلِينَ

ترجمہ جوناگڑھی - محمد جونا گڑھی

پس ہم نے ان سے زیادہ زورآوروں (١) کو تباہ کر ڈالا اور اگلوں کی مثال گزر چکی ہے۔

تفسیر مکہ - حافظ صلاح الدین یوسف حافظ

* یعنی اہل مکہ سے زیادہ زور آور تھے، جیسے دوسرے مقام پر فرمایا ﴿كَانُوا أَكْثَرَ مِنْهُمْ وَأَشَدَّ قُوَّةً﴾ (المؤمن: 82) ”وہ ان سے تعداد اور قوت میں کہیں زیادہ تھے“۔ ** یعنی قرآن مجید میں ان قوموں کا تذکرہ یا وصف متعدد مرتبہ گزر چکا ہے۔ اس میں اہل مکہ کے لیے تہدید ہے کہ پچھلی قومیں رسولوں کی تکذیب کی وجہ سے ہلاک ہوئیں۔ اگریہ بھی تکذیب رسالت پر مصر رہے تو ان کی مثل یہ بھی ہلاک کردیے جائیں گے۔