سورة فصلت - آیت 24

فَإِن يَصْبِرُوا فَالنَّارُ مَثْوًى لَّهُمْ ۖ وَإِن يَسْتَعْتِبُوا فَمَا هُم مِّنَ الْمُعْتَبِينَ

ترجمہ مکہ - مولانا جوناگڑھی صاحب

اب اگر یہ صبر کریں تو بھی ان کا ٹھکانا جہنم ہی ہے۔ اور اگر یہ (عذر و) معافی کے خواستگار ہوں تو بھی معذور و) معاف نہیں رکھے جائیں گے (١)

تفسیر مکی - مولانا صلاح الدین یوسف صاحب

٢٤۔ ١ ایک دوسرے معنی یہ کئے گئے ہیں کہ اگر وہ منانا چاہیں گے تاکہ وہ جنت میں چلے جائیں تو یہ چیز ان کو کبھی حاصل نہ ہوگی (ایسر التفاسیر و فتح القدیر) بعض نے اس کا مفہرم یہ بیان کیا ہے کہ وہ دنیا میں دوبارہ بھیجے جانے کی آرزو کریں گے جو منظور نہیں ہوگی ابن جریر طبری نے کہا کہ مطلب یہ ہے کہ ان کا ابدی ٹھکانا جہنم ہے اس پر صبر کریں تب بھی رحم نہیں کیا جائے گا جیسا کہ دنیا میں بعض دفعہ صبر کرنے والوں پر ترس آ جاتا ہے یا کسی اور طریقے سے وہاں سے نکلنے کی سعی کریں مگر اس میں بھی انہیں ناکامی ہی ہوگی۔