سورة الزمر - آیت 73

وَسِيقَ الَّذِينَ اتَّقَوْا رَبَّهُمْ إِلَى الْجَنَّةِ زُمَرًا ۖ حَتَّىٰ إِذَا جَاءُوهَا وَفُتِحَتْ أَبْوَابُهَا وَقَالَ لَهُمْ خَزَنَتُهَا سَلَامٌ عَلَيْكُمْ طِبْتُمْ فَادْخُلُوهَا خَالِدِينَ

ترجمہ مکہ - مولانا جوناگڑھی صاحب

اور جو لوگ اپنے رب سے ڈرتے تھے ان کے گروہ کے گروہ جنت کی طرف روانہ کئے جائیں گے یہاں تک کہ جب اس کے پاس آجائیں گے اور دروازے کھول دیئے جائیں گے اور وہاں کے نگہبان ان سے کہیں گے تم پر سلام ہو، تم خوش حال رہو تم اس میں ہمیشہ کیلیے چلے جاؤ۔ (١)

تفسیر احسن البیان - حافظ صلاح الدین یوسف رحمہ اللہ

1- اہل ایمان و تقویٰ بھی گروہوں کی شکل میں جنت کی طرف لے جائے جائیں گے، پہلے مقربین، پھر ابرار، اس طرح درجہ بدرجہ، ہر گروہ ہم مرتبہ لوگوں پر مشتمل ہوگا۔ مثلاً انبیاء علیہم السلام، انبیاء علیہم السلام کےساتھ صدیقین شہداء اپنے ہم جنسوں کے ساتھ، علماء اپنے اقران کے ساتھ، یعنی ہر صنف اپنی ہی صنف یا اس کی مثل کے ساتھ ہوگی۔ (ابن کثیر) 2- حدیث میں آتا ہے، جنت کے آٹھ دروازے ہیں، ان میں سے ایک ریان ہے، جس سے صرف روزے دار داخل ہوں گے۔ (صحیح بخاری، نمبر 2257۔ مسلم، نمبر 808) اسی طرح دوسرے دروازوں کے نام بھی ہوں گے، جیسے باب الصلوٰۃ، باب الصدقہ، باب الجھاد وغیرہ (صحيح بخاری، كتاب الصيام، مسلم، كتاب الزكاة) ہر دروازے کی چوڑائی چالیس سال کی مسافت کے برابرہوگی، اس کے باوجود یہ بھرے ہوئے ہوں گے۔ (صحيح مسلم كتاب الزهد) سب سے پہلے جنت کا دروازہ کھٹکھٹانے والے نبی (ﷺ) ہوں گے۔ (مسلم كتاب الإيمان، باب أنا أول الناس يشفع) جنت میں سب سےپہلے جانے والے گروہ کے چہرے پر چودھویں رات کے چاند کی طرح اور دوسرے گروہ کےچہرے پر آسمان پر چمکنے والے ستاروں میں سے روشن ترین ستارے کی طرح چمکتےہوں گے۔ جنت میں وہ بول و براز اور تھوک، بلغم سے پاک ہوں گے، ان کی کنگھیاں سونے کی اور پسینہ کستوری ہوگا، ان کی انگیٹھیوں میں خوشبودار لکڑی ہو گی، ان کی بیویاں الحور العین ہوں گی، ان کا قد آدم (عليہ السلام) کی طرح ساٹھ ہاتھ ہوگا۔ (صحيح بخاری، أول كتاب الأنبياء) صحیح بخاری ہی کی ایک دوسری روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ ہر مومن کو دو بیویاں ملیں گی، ان کے حسن وجمال کایہ حال ہوگا کہ ان کی پنڈلی کا گودا گوشت کے پیچھے سے نظر آئے گا۔ (كتاب بدء الخلق ، باب ما جاء في صفة الجنة) بعض نے کہا یہ دو بیویاں حوروں کے علاوہ، دنیا کی عورتوں میں سے ہوں گی۔ لیکن چونکہ 72 حوروں والی روایت سنداً صحیح نہیں۔ اس لیے بظاہر یہی بات صحیح معلوم ہوتی ہے کہ ہر جنتی کی کم از کم حور سمیت دو بیویاں ہوگی۔ تاہم ﴿وَلَهُمْ فِيهَا مَا يَشْتَهُونَ﴾ کے تحت زیادہ بھی ممکن ہیں۔ واللہ اعلم (مزید دیکھئے فتح الباری۔ باب مذکور)