سورة الصافات - آیت 67

ثُمَّ إِنَّ لَهُمْ عَلَيْهَا لَشَوْبًا مِّنْ حَمِيمٍ

ترجمہ مکہ - مولانا جوناگڑھی صاحب

پھر اس پر گرم کھولتا ہوا پانی پلایا جائیگا (١)

تفسیر مکی - مولانا صلاح الدین یوسف صاحب

٦٧۔ ١ یعنی کھانے کے بعد انہیں پانی کی طلب ہوگی تو کھولتا ہوا پانی انہیں دیا جائے گا، جس کے پینے سے ان کی انتڑیاں کٹ جائیں گی (مَثَلُ الْجَنَّۃِ الَّتِیْ وُعِدَ الْمُتَّقُوْنَ ۭ فِیْہَآ اَنْہٰرٌ مِّنْ مَّاۗءٍ غَیْرِ اٰسِنٍ ۚ وَاَنْہٰرٌ مِّنْ لَّبَنٍ لَّمْ یَتَغَیَّرْ طَعْمُہٗ ۚ وَاَنْہٰرٌ مِّنْ خَمْرٍ لَّذَّۃٍ لِّلشّٰرِبِیْنَ ڬ وَاَنْہٰرٌ مِّنْ عَسَلٍ مُّصَفًّی ۭ وَلَہُمْ فِیْہَا مِنْ کُلِّ الثَّمَرٰتِ وَمَغْفِرَۃٌ مِّنْ رَّبِّہِمْ ۭ کَمَنْ ہُوَ خَالِدٌ فِی النَّارِ وَسُقُوْا مَاۗءً حَمِیْمًا فَقَطَّعَ اَمْعَاۗءَہُمْ) 47۔ محمد :15)