سورة السجدة - آیت 2

تَنزِيلُ الْكِتَابِ لَا رَيْبَ فِيهِ مِن رَّبِّ الْعَالَمِينَ

ترجمہ مکہ - مولانا جوناگڑھی صاحب

بلا شبہ اس کتاب کا اتارنا تمام جہانوں کے پروردگار کی طرف سے ہے (١)

تفسیر مکی - مولانا صلاح الدین یوسف صاحب

حدیث میں آتا ہے کہ نبی جمعہ کے دن فجر نماز میں الَمَّ السَّجْدَہ (اور دوسری رکعت میں) (ھَلْ اَتٰی عَلَی الْاِنْسَانِ) (سُوْرَۃ دہر) پڑھا کرتے تھے (صحیح بخاری) اسی طرح یہ بھی سند سے ثابت ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) رات کو سونے سے قبل سورۃ الم السجدہ اور سورۃ ملک پڑھا کرتے تھے (ترمذی ٨٩٢، مسند احمد أ٣٤٠) ٢۔ ١ مطلب یہ ہے کہ جھوٹ، جادو، کہانت اور من گھڑت قصے کہانیوں کی کتاب نہیں ہے بلکہ رب العالمین کی طرف سے آسمانی کتاب ہدایت ہے۔