سورة الشعراء - آیت 193

نَزَلَ بِهِ الرُّوحُ الْأَمِينُ

ترجمہ مکہ - مولانا جوناگڑھی صاحب

اسے امانت دار فرشتہ لے کر آیا ہے (١)

تفسیر مکی - مولانا صلاح الدین یوسف صاحب

١٩٣۔ ١ کفار مکہ نے قرآن کے وحی الٰہی اور منزل من اللہ ہونے کا انکار کیا اور اسی بنا پر رسالت محمدیہ اور دعوت محمدیہ کا انکار کیا۔ اللہ تعالیٰ نے انبیا علیہم السلام کے واقعات بیان کرکے یہ واضح کیا کہ یہ قرآن یقینا وحی الٰہی ہے اور محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اللہ کے سچے رسول ہیں۔ کیونکہ اگر ایسا نہ ہوتا تو یہ پیغمبر جو پڑھ سکتا ہے نہ لکھ سکتا ہے گزشتہ انبیاء اور قوموں کے واقعات کس طرح بیان کرسکتا تھا ؟ اس لئے یہ قرآن یقینا اللہ رب العالمین ہی کی طرف سے نازل کردہ ہے جسے ایک امانت دار فرشتہ جبرائیل (علیہ السلام) لے کر آئے۔