سورة الحج - آیت 29

ثُمَّ لْيَقْضُوا تَفَثَهُمْ وَلْيُوفُوا نُذُورَهُمْ وَلْيَطَّوَّفُوا بِالْبَيْتِ الْعَتِيقِ

ترجمہ مکہ - مولانا جوناگڑھی صاحب

پھر وہ اپنا میل کچیل دور کریں (١) اور اپنی نذریں پوری کریں (٢) اور اللہ کے قدیم گھر کا طواف کریں (٣)

تفسیر مکی - مولانا صلاح الدین یوسف صاحب

٢٩۔ ١ یعنی ١٠ ذوالحجہ کو جمرہ کبریٰ (یا عقبہ) کو کنکریاں مارنے کے بعد حاجی تحلل اول (یا اصغر) حاصل ہوجاتا ہے، جس کے بعد وہ احرام کھول دیتا ہے اور بیوی سے مباشرت کے سوا، دیگر وہ تمام کام اس کے لئے جائز ہوجاتے ہیں، جو حالت احرام میں ممنوع ہوتے ہیں۔ میل کچیل دور کرنے کا مطلب یہی ہے کہ پھر وہ بالو، ناخنوں وغیرہ کو صاف کرلے، تیل خوشبو استعمال کرے اور سلے ہوئے کپڑے پہن لے وغیرہ۔ ٢٩۔ ٢ اگر کوئی مانی ہوئی ہو، جیسے لوگ مان لیتے ہیں کہ اگر اللہ نے ہمیں اپنے مقدس گھر کی زیارت نصیب فرمائی، تو ہم فلاں نیکی کا کام کریں گے۔ ٢٩۔ ٣ عتیق کے معنی قدیم کے ہیں مراد خانہ کعبہ ہے کہ حلق یا تقصیر کے بعد افاضہ کرلے، جسے طواف زیارت بھی کہتے ہیں، اور یہ حج کا رکن ہے جو وقوف عرفہ اور جمرہ عقبہ (یا کبرٰی) کو کنکریاں مارنے کے بعد کیا جاتا ہے۔ جب کہ طواف قدوم بعض کے نزدیک واجب اور بعض کے نزدیک سنت ہے اور طواف وداع سنت مؤکدہ (یا واجب) ہے۔ جو اکثر اہل علم کے نزدیک عذر سے ساقط ہوجاتا ہے، جیسے حائضہ عورت سے بالاتفاق ساقط ہوجاتا ہے (ایسر التفاسیر)