سورة مريم - آیت 3

إِذْ نَادَىٰ رَبَّهُ نِدَاءً خَفِيًّا

ترجمہ مکہ - مولانا جوناگڑھی صاحب

جبکہ اس نے اپنے رب سے چپکے چپکے دعا کی تھی (١)

تفسیر مکی - مولانا صلاح الدین یوسف صاحب

٣۔ ١ خفیہ دعا اس لئے کی کہ ایک تو یہ اللہ کو زیادہ پسند ہے کیونکہ اس میں تضرع وانابت اور خشوع وخضوع زیادہ ہوتا ہے۔ دوسرے لوگ انھیں بیوقوف نہ قرار دیں کہ یہ بڈھا اب بڑھاپے میں اولاد مانگ رہا ہے جب کہ اولاد کے تمام ظاہری امکانات ختم ہوچکے ہیں۔