سورة الحجر - آیت 78

وَإِن كَانَ أَصْحَابُ الْأَيْكَةِ لَظَالِمِينَ

ترجمہ مکہ - مولانا جوناگڑھی صاحب

ایک بستی کے رہنے والے بھی بڑے ظالم تھے (١)

تفسیر مکی - مولانا صلاح الدین یوسف صاحب

٧٨۔ ١ أیکَہ گھنے درخت کو کہتے ہیں۔ اس بستی میں گھنے درخت ہونگے۔ اس لئے انھیں ( اَصْحٰبُ الْاَیْکَۃِ) 15۔ الحجر :78) (بن یا جنگل والے) کہا گیا۔ مراد اس سے قوم شعیب ہے اور ان کا زمانہ حضرت لوط علیہ السلام کے بعد ہے اور ان کا علاقہ حجاز اور شام کے درمیان قوم لوط کی بستیوں کے قریب ہی تھا۔ اسے مدین کہا جاتا ہے جو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے بیٹے یا پوتے کا نام تھا اور اسی کے نام پر بستی کا نام پڑگیا تھا۔ ان کا ظلم یہ تھا کہ اللہ کے ساتھ شرک کرتے تھے، رہزنی ان کا شیوہ اور کم تولنا اور کم ناپنا ان کا وطیرہ تھا، ان پر جب عذاب آیا ایک بادل ان پر سایہ فگن ہوگیا پھر چنگھاڑ اور بھو نچال نے مل کر ان کو ہلاک کردیا۔