سورة الانفال - آیت 11

إِذْ يُغَشِّيكُمُ النُّعَاسَ أَمَنَةً مِّنْهُ وَيُنَزِّلُ عَلَيْكُم مِّنَ السَّمَاءِ مَاءً لِّيُطَهِّرَكُم بِهِ وَيُذْهِبَ عَنكُمْ رِجْزَ الشَّيْطَانِ وَلِيَرْبِطَ عَلَىٰ قُلُوبِكُمْ وَيُثَبِّتَ بِهِ الْأَقْدَامَ

ترجمہ مکہ - مولانا جوناگڑھی صاحب

اس وقت کو یاد کرو جب کہ اللہ تم پر اونگھ طاری کر رہا تھا اپنی طرف سے چین دینے کے لئے (١) اور تم پر آسمان سے پانی برسا رہا تھا کہ اس پانی کے ذریعے سے تم کو پاک کردے اور تم سے شیطانی وسوسہ کو دفع کردے (٢) اور تمہارے دلوں کو مضبوط کردے اور تمہارے پاؤں جمادے (٣)

تفسیر مکی - مولانا صلاح الدین یوسف صاحب

١١۔ ١ جنگ احد کی طرح جنگ بدر میں بھی اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں پر اونگھ طاری کردی جس سے ان کے دلوں کے بوجھ ہلکے ہوگئے اور اطمینان و سکون کی ایک خاص کیفیت ان پر طاری ہوگئی۔ ١١۔ ٢ تیسرا انعام یہ کیا کہ بارش نازل فرمادی جس سے ایک تو ریتلی زمین میں نقل و حرکت آسان ہوگئی دوسرے وضو و طہارت میں آسانی ہوگئی، تیسرے اس سے شیطانی وسوسوں کا ازالہ فرما دیا جو اہل ایمان کے دلوں میں ڈال رہا تھا کہ تم اللہ کے نیک بندے ہوتے ہوئے بھی پانی سے دور ہو، دوسرے جنابت کی حالت میں تم لڑوگے تو کیسے اللہ کی رحمت و نصرت تمہیں حاصل ہوگی؟ تیسرے تم پیاسے ہو، جب کہ تمہارے دشمن سیراب ہیں۔ وغیرہ وغیرہ۔ ١١۔ ٣ یہ چوتھا انعام ہے جو دلوں اور قدموں کو مضبوط کرکے کیا گیا۔