سورة العلق - آیت 6

كَلَّا إِنَّ الْإِنسَانَ لَيَطْغَىٰ

ترجمہ مکہ - مولانا جوناگڑھی صاحب

سچ مچ انسان تو آپے سے باہر ہوجاتا ہے۔

تفسیر فہم القرآن - میاں محمد جمیل

فہم القرآن ربط کلام : اللہ تعالیٰ نے انسان کو حقیر نطفہ سے پیدا کیا اور پھر اسے علم اور فہم کے ذریعے دوسری مخلوق سے معزز بنایا لیکن انسان اپنے رب کا تابعدار ہونے کی بجائے اس کا باغی بن جاتا ہے۔ آپ پڑھ چکے ہیں کہ سورۃ التّین میں چار قسمیں اٹھاکر اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے کہ ہم نے انسان کو بہترین شکل و صورت میں پیدا کیا ہے نہ صرف اسے بہترین شکل و صورت میں پیدا کیا ہے بلکہ انسان کو قلم کے ذریعے علم کی دولت سے مالا مال فرمایا۔ اس بنا پر انسان دوسری مخلوق کو اپنے تابع بنا لیتا ہے، چاہیے تو یہ کہ انسان اپنے رب کا تابع فرمان اور شکرگزار ہوتا لیکن اکثر انسانوں کی حالت یہ ہے کہ جونہی انہیں کچھ اختیارات اور وسائل حاصل ہوتے ہیں تو وہ نہ صرف اپنے رب کے باغی بن جاتے ہیں بلکہ دوسروں کی گمراہی کا سبب بھی بنتے ہیں۔ ایسے لوگ اپنے آپ کو بڑا سمجھتے ہیں اور اپنے خالق کی ذات اور اس کے احکام کی پرواہ نہیں کرتے۔ انسان کو مال مل جائے تو بخیل ہوجاتا ہے، اختیارات حاصل ہوں تو سرکش بنتا ہے، قوت حاصل ہو تو دھنگا فساد کرتا ہے، وسائل مل جائیں تو دوسروں پر ظلم کرتا ہے۔ وہ یہ حقیقت بھول جاتا ہے کہ میں نے بالآخر اپنے رب کے حضور پیش ہونا ہے۔ اس سے اگلی آیات میں ایسے شخص کا کردار پیش کیا گیا ہے۔ (وَ اِذَا مَسَّ الْاِنْسَان الضُّرُّ دَعَانَا لِجَنْبِہٖٓ اَوْ قَاعِدًا اَوْ قَآءِمًا فَلَمَّا کَشَفْنَا عَنْہُ ضُرَّہٗ مَرَّکَاَنْ لَّمْ یَدْعُنَآ اِلٰی ضُرٍّمَّسَّہٗ کَذٰلِکَ زُیِّنَ لِلْمُسْرِفِیْنَ مَا کَانُوْا یَعْمَلُوْنَ) (یونس : ١٢) ” اور جب انسان کو تکلیف پہنچتی ہے تو اپنے پہلو پر بیٹھا یا کھڑا ہوا ہمیں پکارتا ہے پھر جب ہم اس کی تکلیف دور کردیتے ہیں تو اس طرح چل دیتا ہے جیسے اس نے ہمیں کسی تکلیف کے وقت جو اسے پہنچی ہو پکارا ہی نہیں۔ اسی طرح حد سے بڑھ جانے والوں کے لیے عمل مزین کردیے گئے جو وہ کیا کرتے تھے۔“ (وَاِِذَا اَنْعَمْنَا عَلَی الْاِِنْسَانِ اَعْرَضَ وَنَاَی بِجَانِبِہِ وَاِِذَا مَسَّہُ الشَّرُّ فَذُو دُعَاءٍ عَرِیضٍ) (حم السجدۃ: ٥١) ” انسان کو جب ہم نعمت دیتے ہیں تو وہ منہ پھیرتا ہے اور اکڑ جاتا ہے، اور جب اسے کوئی آفت آتی ہے تو لمبی چوڑی دعائیں کرنے لگتا ہے۔“ (عَنْ عُقْبَۃَ بْنِ عَامِرٍ (رض) عَنِ النَّبِی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) قَالَ إِذَا رَأَیْتَ اللَّہَ یُعْطِی الْعَبْدَ مِنَ الدُّنْیَا عَلَی مَعَاصِیہِ مَا یُحِبُّ فَإِنَّمَا ہُوَ اسْتِدْرَاجٌ ثُمَّ تَلاَ رَسُول اللَّہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) (فَلَمَّا نَسُوا مَا ذُکِّرُوا بِہِ فَتَحْنَا عَلَیْہِمْ أَبْوَابَ کُلِّ شَیْءٍ حَتَّی إِذَا فَرِحُوا بِمَا أُوتُوا أَخَذْنَاہُمْ بَغْتَۃً فَإِذَا ہُمْ مُبْلِسُونَ) (رواہ احمد : مسند عقبۃ بن عامر قال البانی صحیح) حضرت عقبہ بن عامر (رض) نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے بیان کرتے ہیں جب اللہ بندے کو اس کی نافرمانیوں کے باوجود عطا کرتا جائے جس کا بندہ خواہش مند ہوتا ہے تو وہ اپنے رب کو بھول جاتا ہے، یہی وہ مہلت ہے جس کا یہاں ذکر کیا گیا ہے پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس آیت کی تلاوت کی (جب اس بات کو بھول گئے جس کی ہم نے انہیں نصیحت کی تھی تو ہم نے ان کے لیے ہر چیز کے دروازے کھول دیے یہاں تک کہ وہ اس پر خوش ہوگئے تو ہم نے انہیں اچانک پکڑ لیا اور وہ اس وقت مایوس ہو کے رہ گئے۔“ مسائل ١۔ انسان کو وسائل حاصل ہوں تو وہ اپنے رب کا تابع فرمان ہونے کی بجائے اس کا نافرمان بن جاتا ہے۔ ٢۔ کوئی تابعدار ہو یا باغی بالآخر اس نے اپنے رب کے حضور پیش ہونا ہے۔ تفسیر بالقرآن ہرشخص نے مر کر اپنے رب کی بارگاہ میں پیش ہونا ہے : ١۔ میں اسی کی طرف بلاتا ہوں اور اسی کی طرف مجھے لوٹ کر جانا ہے۔ (الرعد : ٣٦) ٢۔ ” اللہ“ کو ہی قیامت کا علم ہے اور اسی کی طرف تم نے لوٹنا ہے۔ (الزخرف : ٨٥) ٣۔ زمین اور جو کچھ اس میں ہے ہم ہی اس کے وارث ہیں اور وہ ہماری طرف لوٹیں گے (مریم : ٤٠) ٤۔ اللہ کے لیے زمین و آسمان کی بادشاہت ہے اور اسی کے سامنے پیش کیے جاؤ گے۔ (الزمر : ٤٤) ٥۔ وہی زندہ کرتا اور مارتا ہے اور اسی کے حضور تم نے پیش ہونا ہے (یونس : ٥٦) ٦۔ میرا اور اپنے والدین کا شکریہ ادا کرتے رہیے بالآخر تم نے میری طرف ہی لوٹ کر آنا ہے۔ (لقمان : ١٤) ٧۔ ہماری طرف ان کا لوٹنا ہے، پھر اللہ اس پر گواہ ہے جو وہ کرتے ہیں۔ (یونس : ٤٦)