سورة العلق - آیت 0

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ

ترجمہ مکہ - مولانا جوناگڑھی صاحب

شروع کرتا ہوں میں اللہ تعالیٰ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے (سورۃ العلق۔ سورۃ نمبر ٩٦۔ تعداد آیات ١٩)

تفسیر فہم القرآن - میاں محمد جمیل

سورۃ العلق کا تعارف اس سورت کا نام العلق اس کی دوسری آیت میں موجود ہے اس کی انیس آیات ہیں جو ایک رکوع پر مشتمل ہیں۔ اس سورت کی خصوصیت یہ ہے کہ اس سے آپ کی نبوت کا آغاز ہوا اور اسی سے قرآن مجید کی ابتدا ہوئی ہے۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اس کی ابتدائی آیات پڑھنے کا حکم ہوا۔ اس میں انسان کو اس کی ابتداء بتلا کر آگاہ کیا ہے کہ انسان اس وقت اپنے رب کو فراموش کردیتا ہے جب یہ اپنے آپ کو بے نیاز اور بڑا سمجھتا ہے۔ جو شخص اپنے آپ کو بڑا سمجھتا ہے بالآخر وہ ذلت اور رسوائی کے گھاٹ اتر جاتا ہے۔ ذلّت اور رسوائی سے وہی شخص بچ پائے گا جو اپنے رب کی نعمتوں کا اعتراف کرتے ہوئے اس کے سامنے جھکے گا اور اس کی قربت کا متلاشی رہے گا۔