سورة الفجر - آیت 6

أَلَمْ تَرَ كَيْفَ فَعَلَ رَبُّكَ بِعَادٍ

ترجمہ مکہ - مولانا جوناگڑھی صاحب

کیا آپ نے نہیں دیکھا کہ آپ کے رب نے عادیوں کے ساتھ کیا کیا (١)۔

تفسیر فہم القرآن - میاں محمد جمیل

فہم القرآن ربط کلام : اللہ تعالیٰ کی تخلیق میں جس طرح اس کی قدرت کی نشانیاں پائی جاتی ہیں اسی طرح یہ بات بھی اس کی قدرت اور قوت کا مظہر ہے کہ اس نے عاد اور ثمود جیسی قوموں کو نیست و نابود کیا جن کی تباہی سے لوگوں نے سکون پایا۔ موجودہ جغرافیے کے مطابق قوم عاد کی رہائش عمان اور یمن کے علاقے حضرموت کے درمیان تھی یہ علاقہ سمندر کے کنارے پر واقع تھا یہاں ریت کے بڑے بڑے ٹیلے اور بلندوبالا پہاڑ تھے۔ اس کے باسی جسمانی اعتبار سے دراز قامت، کڑیل جوان اور قوی ہیکل تھے دنیا میں ان کا ثانی کوئی نہیں پیدا کیا گیا۔ انھوں نے پہاڑتراش، تراش کر خوبصورت محلات تعمیر کر رکھے تھے ان کی سرزمین نہایت سر سبزتھی جس میں ہر قسم کے باغات لہلہاتے تھے انھیں قرآن مجید میں ” احقاف والے“ بھی کہا گیا ہے۔ احقاف ریت کے بڑے بڑے ٹیلوں کو کہا جاتا ہے جو عرب کے جنوب مغربی حصہ میں واقع تھے۔ اللہ تعالیٰ نے اسی علاقہ میں حضرت ھود (علیہ السلام) کو مبعوث فرمایا جو خوش اندام کڑیل جوان اور بہترین صورت و سیرت کے حامل تھے۔ حضرت ہود علیہ السلامنے لمبی مدت تک اپنی قوم کو سمجھایا مگر قوم سمجھنے کے لیے تیار نہ ہوئی۔ قوم عاد کے جرائم : ١۔ قوم عاد نے خود ساختہ معبود بنا رکھے تھے ان کے سامنے اپنی حاجات و مشکلات پیش کرتے تھے۔ (الاعراف : ٧٠) ٢۔ یہ لوگ آخرت کو جھٹلانے اور دنیا پر اترانے والے تھے۔ (المؤمنون : ٣٣) ٣۔ ان کا عقیدہ تھا کہ اس دنیا کے سوا اور کوئی جہاں برپا نہیں ہوگا۔ (المؤمنون : ٣٧) ٤۔ یہ اپنی قوت پر اترانے والے تھے۔ (حٰآالسجدۃ : ١٥) اس قوم کی تباہی کا ایک منظر : ١۔ ان پر سات راتیں اور آٹھ دن زبردست آندھی اور ہوا کے بگولے چلے۔ (الحاقۃ : ٧) (الشعراء : ٢٠) ٢۔ گرج چمک اور بادو باراں کا طوفان آیا۔ (الاحقاف : ٢٤) ٣۔ آندھیوں نے انھیں کھجور کے تنوں کی طرح پٹخ پٹخ کر دے مارا۔ (الحاقۃ: ٧) ٤۔ انھیں ریزہ ریزہ کردیا گیا۔ (الذاریات : ٤١، ٤٢) ٥۔ دنیا میں ذلیل و خوار ہوئے اور آخرت میں سخت عذاب میں مبتلا ہوں گے۔ (السجدۃ : ١٦، ھود : ٥٩) ٦۔ قوم ھود کو نیست و نابود کردیا گیا۔ (الاعراف : ٧٢) قوم صالح کے جرائم : ١۔ قوم صالح اللہ کے ساتھ شرک کیا کرتی تھیں۔ (ھود : ٦٢۔ ٦١) ٢۔ ثمود انبیاء کو جھوٹا قرار دیتے تھے۔ (الشعراء : ١٤١) ٣۔ وہ لوگ بہت زیادہ اسراف، تکبر اور زمین میں فساد کرنے والے تھے۔ (الشعراء : ١٥٢، ١٥١) ٤۔ قوم ثمود ہدایت کے بجائے گمراہی کو پسند کرتی تھی۔ (حٰم السجدۃ: ١٧) ٥۔ انھوں نے اللہ کی نشانی کو جھٹلایا۔ (ھود : ٦٦) قوم ثمود کی ہلاکت کا منظر : ١۔ قوم ثمود کو تین دن کی مہلت دی گئی۔ (ھود : ٤٥) ٢۔ قوم ثمود کو صبح کے وقت ہولناک دھماکے نے آلیا اور ان کا مال واسباب ان کے کچھ کام نہ آئے۔ (الحجر ٨٣۔ ٨٤) ٣۔ ہم نے ان پر ہولناک چیخ نازل کی وہ ایسے ہوگئے جیسے بوسیدہ اور سوکھی ہوئی باڑ ہوتی ہے۔ (القمر : ٣١) فرعون اور اس کے ساتھیوں کا انجام : فرعون مصر کے حکمران کا اصلی نام نہیں بلکہ اس کا سرکاری لقب تھا۔ قدیم تاریخ سے پتہ چلتا ہے کہ یمن کا حکمران تبع، حبشہ کا بادشاہ نجاشی، روم کا حکمران قیصر، ایران کا فرمانروا کسریٰ کہلواتا اور ہندوستان کے حکمران اپنے آپ کو راجا کہلوانا پسند کرتے تھے۔ جس طرح آج کل صدارتی نظام میں حکمران پریذیڈنٹ اور پارلیمانی نظام رکھنے والے ممالک میں وزیر اعظم اور جرمن کا حکمران چانسلر کہلواتا ہے اسی طرح ہی مصر کا بادشاہ سرکاری منصب کے حوالے سے فرعون کہلواتا تھا۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا جس فرعون سے واسطہ پڑا اس کا نام قابوس یا رعمیس تھا۔ یہ اپنے آپ کو خدا کا اوتار سمجھتے ہوئے لوگوں کو یہ تاثر دینے میں کامیاب ہوا کہ اگر میں خدا کا اوتار نہ ہوتا تو دنیا کی سب سے بڑی مملکت کا فرمانروا کیسے ہوسکتا تھا۔ پھر اس نے لوگوں کے مزاج اور مشرکانہ عقائد سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنے آپ کو رب اعلیٰ قرار دیا۔ قوم اور موسیٰ (علیہ السلام) کے سامنے دعویٰ کیا کہ زمین و آسمان میں مجھ سے بڑھ کر کوئی رب نہیں ہے میں ہی سب دیوتاؤں سے بڑا دیوتا اور سب سے اعلیٰ اور اولیٰ کائنات کا رب ہوں۔ اللہ تعالیٰ نے اس کی جھوٹی خدائی کے پرخچے اڑانے اور اس کی کذب بیانی کا پول کھولنے کے لیے اسی کے گھر میں پرورش پانے والے موسیٰ (علیہ السلام) کو رسول منتخب فرمایا۔ فرعون کو میخوں والا اس لیے کہا گیا ہے۔1۔ وہ اسلحہ کے لحاظ سے بڑا طاقتور تھا۔ 2۔ فرعون اپنے مخالفوں پر اس قدر ظلم کرتا کہ ان کے جسم پر کیل ڈھونک دیتا تھا بعض مفسرین کے مطابق اس نے اپنی بیوی حضرت آسیہ (رض) جو موسیٰ (علیہ السلام) پر ایمان لائی تھی اسے بھی یہی سزا دی تھی۔ مسائل ١۔ اللہ تعالیٰ نے عاد اولیٰ اور عاد ثانیہ کو ہلاک کیا۔ ٢۔ اللہ تعالیٰ نے ثمود جیسی قوم دوبارہ پیدا نہیں کی۔ ٣۔ قوم ثمود نے پہاڑوں میں مکانات تعمیر کیے۔ ٤۔ قوم ثمود نے ملک میں بہت زیادہ فساد برپا کر رکھا تھا۔ ٥۔ اللہ تعالیٰ نے قوم ثمود پر عذاب نازل کیا اور انہیں نیست ونابود کردیا۔ ٦۔ اللہ تعالیٰ نے قوم عاد اور آل فرعون تباہ کردیا۔ تفسیر بالقرآن قوم ثمود کی ہلاکت کا ایک منظر : ١۔ قوم ثمود نے حضرت صالح (علیہ السلام) سے عذاب کا مطالبہ کیا۔ (الاعراف : ٧٧) ٢۔ انھوں نے اونٹنی کی کونچیں کاٹ ڈالیں اور وہ نادم ہونے والوں میں سے ہوگئے۔ (الشعراء : ١٥٧) ٣۔ قوم ثمود کے بدبختوں نے اونٹنی کی ٹانگیں کاٹ دیں۔ الشمس : ١٤) ٤۔ ثمود زور دار آواز کے ساتھ ہلاک کیے گئے۔ (الحاقہ : ٥) ٥۔ قوم عاد و ثمود کے اعمال بد کو شیطان نے ان کے لیے فیشن بنا دیا تھا۔ (العنکبوت : ٣٨) ٦۔ قوم ثمود کو زلزلے نے آپکڑا اور وہ اپنے گھروں میں اوندھے پڑے رہ گئے۔ (الاعراف : ٧٨) ٧۔ قوم ثمود کو چیخ نے آپکڑا۔ وہ اپنے گھروں میں اوندھے پڑے ہوئے تھے۔ (ھود : ٦٧) قوم عاد کے بارے میں تفصیلاً الاعراف کے رکوع ١٦ جبکہ آل فرعون کے بارے میں سورۃ یونس رکوع ١٢، ١٣ کا مطالعہ کریں۔