سورة التحريم - آیت 9

يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ جَاهِدِ الْكُفَّارَ وَالْمُنَافِقِينَ وَاغْلُظْ عَلَيْهِمْ ۚ وَمَأْوَاهُمْ جَهَنَّمُ ۖ وَبِئْسَ الْمَصِيرُ

ترجمہ مکہ - مولانا جوناگڑھی صاحب

اے نبی! کافروں اور منافقوں سے جہاد کرو (٢) اور ان پر سختی کرو (٢) ان کا ٹھکانا جہنم ہے (٣) اور وہ بہت بری جگہ ہے۔

تفسیر فہم القرآن - میاں محمد جمیل

فہم القرآن ربط کلام : کفار اور منافقین کی ہر دم کوشش تھی کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور آپ کے ساتھیوں کو ناکام اور رسوا کیا جائے، جس وجہ سے کفار اور منافقین پر سختی کرنے کا حکم دیا گیا ہے اور ان کی سزا جہنم بیان کی گئی ہے۔ اس سے پہلی آیت میں ارشاد ہوا کہ اللہ تعالیٰ اپنے نبی اور اس کے ایماندار ساتھیوں کو رسوا نہیں کرے گا، وہ ایمانداروں کو جنت میں داخل فرمائے گا اور ان کا ایمان جنت کے راستے میں ان کے لیے روشنی ثابت ہوگا۔ ان کے مقابلے میں کفار اور منافقین کی سزا جہنم ہوگی جو نہایت ہی برا ٹھکانہ ہے۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے قتال فی سبیل اللہ کا حکم آنے سے پہلے بے حد صبر اور اعلیٰ اخلاق کا مظاہرہ کرتے ہوئے دن رات کوشش فرمائی کہ کافر اور منافق صراط مستقیم پر گامزن ہوجائیں لیکن وہ لوگ کسی صورت بھی صراط مستقیم پر آنے کے لیے تیار نہ ہوئے۔ ایسے لوگوں کی سزا یہ ہے کہ ان کے جرائم کے مطابق ان پر سختی کی جائے تاکہ وہ اپنے عقیدہ اور کردار پر نظر ثانی کرنے پر غور کریں۔ سختی یہ بھی ہے کہ ان کے مقابلے میں مسلمانوں کو ترجیح دی جائے، اور حالت جنگ میں انہیں قتل کیا جائے۔ (عَنْ أَنَسٍ (رض) أَنَّ النَّبِیَّ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) قَالَ جَاہِدُوا الْمُشْرِکِینَ بِأَمْوَالِکُمْ وَأَنْفُسِکُمْ وَأَلْسِنَتِکُمْ) (رواہ ابوداؤد : باب کَرَاہِیَۃِ تَرْکِ الْغَزْوِ) ” حضرت انس (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اپنے مالوں، جانوں اور زبانوں کے ساتھ مشرکین سے جہاد کرو۔“ مسائل ١۔ نبی معظم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو کفار اور منافقین پر سختی کرنے کی تلقین کی گئی۔ ٢۔ کفار اور منافقین کا ٹھکانہ جہنم ہے جو رہنے کے اعتبار سے بدترین جگہ ہے۔ تفسیر بالقرآن کفار اور منافقین کا انجام : ١۔ منافق اللہ کو دھوکہ دینے والے ہوتے ہیں۔ (النساء : ١٤٢) ٢۔ منافق جہنم کے سب سے نچلے درجے میں ہوں گے۔ (النساء : ١٤٥) (التوبہ : ٧٣، التحریم : ٩) (التوبہ : ٦٨)