سورة الذاريات - آیت 57

مَا أُرِيدُ مِنْهُم مِّن رِّزْقٍ وَمَا أُرِيدُ أَن يُطْعِمُونِ

ترجمہ مکہ - مولانا جوناگڑھی صاحب

نہ میں ان سے روزی چاہتا ہوں اور نہ میری یہ چاہت ہے کہ مجھے کھلائیں (١)

تفسیر فہم القرآن - میاں محمد جمیل

فہم القرآن ربط کلام : اللہ تعالیٰ اپنے بندوں سے رزق کا مطالبہ نہیں کرتا نہ اسے کھانے پینے کی حاجت ہے۔ وہ صرف اپنی بندگی کا مطالبہ کرتا ہے جس میں اسے کوئی فائدہ نہیں اس میں لوگوں کا ہی فائدہ ہے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ میں لوگوں سے رزق نہیں مانگتا اور نہ ہی اس بات کا مطالبہ کرتاہوں کہ وہ مجھے کھلائیں۔ رزق تو سب کو اللہ ہی دینے والا ہے، وہ بڑا طاقتور اور مضبوط ہے۔ عربوں نے زرِخرید غلام رکھے ہوتے تھے جو ان کے لیے مزدوری اور مختلف قسم کے کام کرتے اور اس کی مزدوری اپنے آقا کی خدمت میں پیش کرتے تھے۔ یہاں پہلی بات یہ سمجھائی کہ یہ تمہارا طریقہ ہے کہ تم اپنے غلاموں کی کمائی کھاتے ہو۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں سے کھاتا نہیں بلکہ وہ انہیں کھلاتا ہے۔ اسی بات سے یہ بھی سمجھ لو کہ جنہیں تم مشکل کشا سمجھتے اور ان کی عبادت کرتے ہو وہ تمہیں کچھ نہیں دیتے۔ البتہ تم ضرور انہیں کچھ نہ کچھ دیتے ہو۔ اللہ تعالیٰ تمام حاجات سے پاک اور بے نیاز ہے۔ وہ اپنی مخلوق کو دیتا اور کھلاتا ہے۔ اس کے عطا کرنے اور دینے کا نظام اتنا مضبوط ہے کہ کوئی اس کے نظام میں دخل نہیں دے سکتا۔ (فاطر : ١٣) وہ جس کا چاہتا ہے رزق تنگ کرتا ہے اور جس کا چاہتا ہے کشادہ کرتا ہے۔ (العنکبوت : ٦٢) اللہ تعالیٰ ہی انسان کو پیدا کرنے والا ہے اور اس نے ہی اس کے رزق کا ذمہ لے رکھا ہے۔ رزق سے مراد صرف کھانے پینے کی چیزیں نہیں بلکہ اس سے مراد ہر وہ چیز ہے جو ایک ذی روح کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس میں ہوا، پانی، خوراک اور رہن سہن کی ضروریات بھی شامل ہیں۔ یہ سب چیزیں عطا کرنے والا صرف اللہ تعالیٰ ہے۔ اس نے اپنا دسترخوان اتنا وسیع اور (Mobile) بنایا ہے کہ ہر کھانے والے کو اس کی خوراک مل رہی ہے گوشت کھانے والے درندے کو گوشت مل رہا ہے اور دانہ دنکا لینے والے کو دانہ دنکا صبح وشام میسر ہے۔ مخلوق میں چند جمع کرنے والوں کے سوا باقی سب کے سب صبح وشام تازہ خوراک سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔ جہاں تک انسان کا معاملہ ہے اس کا رزق بھی اللہ تعالیٰ نے اپنے ذمہ لیا ہے البتہ حکم ہے کہ اللہ کا رزق تلاش کیا کرو۔ اس کے لیے محنت ومشقت کرنا لازم ہے لیکن رزق کی کمی وبیشی کا انحصار انسان کی محنت پر نہیں۔ اگر رزق محنت کی بنیاد پر دیا جاتا تو معذور اور لاچار بھوکے مرجاتے۔ جہاں تک رزق کی کمی و بیشی کا تعلق ہے یہ اللہ تعالیٰ کے مقرر کردہ اصول کے عین مطابق ہے جس کے پیش نظر وہ لوگوں کا رزق بڑھاتا اور گھٹاتا رہتا ہے۔ اگر کہیں قحط سالی پیدا ہوجاتی ہے تو یہ اللہ تعالیٰ کے طے شدہ اصول کے مطابق ہوتی ہے جس کا سبب بنیادی طور پر انسان ہی ہوا کرتا ہے۔ بے شک وہ قحط سالی پانی کی قلت اور بارش کی کمی کی وجہ سے ہی کیوں نہ ہو۔ وہ بھی انسان کے اعمال کا نتیجہ ہوتی ہے۔ اس قانون کے مطابق اللہ تعالیٰ نے ہر انسان کے رزق کا ذمہ لیا ہے۔ وہ لوگوں کی مستقل قیام گاہوں اور عارضی رہائش کو جانتا ہے۔ (ھود : ٦) کیونکہ لوگوں کو رزق پہنچانا اور ان کے اعمال اور ضروریات سے باخبر رہنا اس کی صفت کاملہ ہے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نہ صرف ہر لحاظ سے باخبر رہتا ہے بلکہ اس نے انسان اور دنیا کی ہر چیز کے بارے میں سب کچھ لوح محفوظ میں ثبت کر رکھا ہے۔ ” مغیرہ بن شعبہ کے غلام وراد بیان کرتے ہیں حضرت معاویہ (رض) نے مغیرہ کو خط لکھا کہ مجھے وہ دعا لکھ کر بھیجو۔ جو نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے آپ نماز کے بعد سنا کرتے تھے۔ حضرت مغیرہ (رض) نے مجھ سے لکھوایا کہ میں نے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو نماز کے بعد یہ الفاظ کہتے ہوئے سنا۔” لَا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہُ لَا شَرِیکَ لَہُ اللَّہُمَّ لَا مَانِعَ لِمَا أَعْطَیْتَ وَلَا مُعْطِیَ لِمَا مَنَعْتَ وَلَا یَنْفَعُ ذَا الْجَدِّ مِنْکَ الْجَدُّ“ (رواہ البخاری : کتاب القدر، باب لامانع لما اعطی اللّٰہ) ” اللہ کے علاوہ کوئی معبود بر حق نہیں۔ وہ اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں اے اللہ جسے تو دینا چاہے اسے کوئی نہیں روک سکتا اور جس سے تو روک لے اسے کوئی دے نہیں سکتا۔ تیرے ہاں کسی بڑے کی بڑائی کوئی فائدہ نہیں دے سکتی۔“ مسائل ١۔ اللہ تعالیٰ اپنی ذات کے لیے نہ کسی سے رزق مانگتا ہے اور نہ اپنے کھانے کے لیے کسی سے مطالبہ کرتا ہے، اور نہ اسے ضرورت ہے۔ ٢۔ اللہ تعالیٰ اپنی ذات اور نظام کے حوالے سے سب سے زیادہ طاقتور اور مضبوط ہے۔ ٣۔ ” اللہ“ ہی سب کو رزق دینے والا ہے۔ ٤۔ اللہ تعالیٰ بڑی قوت والا اور مضبوط ہے۔ تفسیربالقرآن اللہ تعالیٰ ہی رزق دینے والا ہے، وہ نہ چاہے تو کوئی کسی کو کچھ نہیں دے سکتا : ١۔ ہم نے اس زمین میں تمہارے لیے معاش کا سامان بنایا اور ان کے لیے بھی جنہیں تم خوراک نہیں دیتے۔ (الحجر : ٢٠) ٢۔ کیا وہ نہیں جانتے کہ اللہ ہی رزق کو فراخ اور تنگ کرتا ہے۔ (الزمر : ٥٢) ٣۔ زمین میں ہر قسم کے چوپاؤں کا رزق اللہ کے ذمہ ہے۔ (ھود : ٢) ٤۔ بے شک اللہ ہی رزق دینے والا ہے۔ (الذاریات : ٥٨) ٥۔ اللہ ہی رزق فراخ کرتا اور کم کرتا ہے۔ (السباء : ٣٩) ٦۔ اللہ تعالیٰ لوگوں سے رزق طلب نہیں کرتا بلکہ وہ لوگوں کو رزق دیتا ہے۔ (طٰہٰ : ١٣٢) ٧۔ اپنی اولاد کو مفلسی کے ڈر سے قتل نہ کرو کیونکہ اللہ ہی تمھیں اور انھیں رزق دینے والا ہے۔ (الانعام : ١٥٢)