سورة الذاريات - آیت 1

وَالذَّارِيَاتِ ذَرْوًا

ترجمہ مکہ - مولانا جوناگڑھی صاحب

قسم ہے بکھیرنے والیوں کی اڑا کر (١)۔

تفسیر فہم القرآن - میاں محمد جمیل

فہم القرآن ربط سورت : سورۃ ق کا اختتام قیامت کے ذکر پر ہوا۔ الذّاریات کی ابتدا بھی قیامت کے ذکر اور اس کے دلائل سے کی گئی ہے۔ اللہ تعالیٰ کا اپنی مخلوق میں سے کسی کی قسم اٹھانا بڑی اہمیت رکھتا ہے۔ پہلے بھی عرض ہوچکا ہے کہ اس سے دیگر مقاصد کے ساتھ اس چیز کی اہمیت بتلانا بھی مقصود ہوتا ہے۔ جنس (gender) کے اعتبار سے ہوا ایک ہے لیکن کام اور اثرات کے لحاظ سے اس کی کئی اقسام ہیں یہاں چار قسم کی ہواؤں کا ذکر کیا گیا ہے۔ قسم ہے گردوغبار اڑانے والی، بادلوں کا بوجھ اٹھانے والی پھر سبک رفتار چلنے والی اور پانی کو بارش کی صورت میں برسانے والی ہواؤں کی۔ یاد رہے کہ قدرت کی بڑی بڑی نشانیوں میں ہوابھی اللہ کی قدرت کی زبردست نشانی ہے۔ ہوا قدرت کی نشانی ہونے کے ساتھ اتنی بڑی نعمت ہے کہ اس کے سوا ہر جاندارچند لمحوں کا مہمان ہوتا ہے۔ اللہ کی بے پایاں رحمت پر غور فرمائیں کہ جن چیزوں کے بغیر کوئی جاندار زیادہ دیر تک زندہ نہیں رہ سکتا۔ اللہ تعالیٰ نے ان نعمتوں کو عام کردیا ہے۔ ان میں پانی، روشنی، اندھیرا اور ہوا بھی شامل ہے جو محلات کی نسبت جھونپڑیوں میں رہنے والوں کو صاف اور شفاف صورت میں حاصل ہوتی ہیں۔ ہوا پر غور فرمائیں کہ اگر اللہ تعالیٰ اسے گرد آلود یارنگ دار کردے تو بینائی رکھنے کے باوجود انسان ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہوجائے۔ اگر پوری دنیا یا کسی علاقے کی ہوا کو گرد آلود کردیا جائے تو پیدل چلنے والے سے لے کر ہوائی جہاز کا پائلٹ بھی بے کار اور لاچار ہوجائے گا۔ اللہ تعالیٰ نے ہوا میں ایسی قوت رکھ دی ہے کہ اگر وہ آندھی کی شکل اختیار کرلے توہر چیز کو اڑا کر رکھ دیتی ہے۔ ہوا ٹنوں کے حساب سے گردو غبار اٹھا کر اسے میلوں دور پھینک دیتی ہے بالخصوص صحراء میں ریت کے بڑے بڑے ٹیلوں کو ہوا ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کردیتی ہے۔ بسا اوقات آندھی کی وجہ سے صحراء میں راستے اس طرح اٹ جاتے ہیں کہ مسافر کے لیے راستہ تلاش کرنا محال ہوجاتا ہے۔ ہوا میں اللہ تعالیٰ نے یہ قوت اور کشش بھی رکھی ہے کہ جب سمندر کا پانی سورج کی گرمی سے بخارات کی شکل اختیار کرتا ہے تو ہوا اس کو اٹھا کر فضا میں ایک خاص بلندی تک لے جاتی ہے اور پھر اللہ تعالیٰ کے حکم سے بادلوں کو اٹھائے ہوئے خراما خراما چلتی ہوئی انہیں وہاں لے جاتی ہے جہاں انہیں برسنے کا حکم ہوتا ہے۔ بادلوں کو اٹھانے والی ہوا یک دم بادل کو نیچے نہیں پھینکتی بلکہ آبشار کی صورت میں پانی برساتی ہے۔ اگر ہوا بادل کو یک دم پھاڑ دے تو زمین پر پانی اس طرح گرے کہ کوئی چیز باقی نہ بچ سکے۔ اگر اللہ تعالیٰ سورج کی تپش سے پانی کو بخارات میں تبدیل نہ کرے اور بخارات کو ہوا اوپر نہ اٹھائے تو بارش کا برسنا ناممکن ہوجائے۔ ہوا بادلوں کو تقسیم کرتی ہے بسا اوقات اس قدر گہرے بادل ہوتے ہیں کہ لوگ خیال کرتے ہیں کہ یہ بادل ہر صورت برس کر رہیں گے لیکن یکدم ہوا بادلوں کو اس طرح بکھیر دیتی ہے کہ ان کا نشان تک دکھائی نہیں دیتا۔ بنیادی طور پر بارش ہی آبپاشی کاذریعہ ہے جس سے ہر ذی روح سیراب ہوتا ہے اور بارش کا مرکزی سبب ہوا ہے جس کے ذریعہ بادل ایک مقام سے دوسرے مقام تک پہنچتے اور برستے ہیں۔ بارش کے ذریعے ہی اللہ تعالیٰ مردہ زمین کو حیاتِ نو بخشا ہے جس وجہ سے زمین میں دبے ہوئے بیج اپنی اپنی مدت پوری کرنے کے بعد اگتے ہیں اور صحراء شاداب دکھائی دیتے ہیں۔ یہاں اشارے کی زبان میں اور دوسرے مقام پر کھلے الفاظ میں بتایا ہے کہ جس طرح بارش سے بیج اُ گتے ہیں اسی طرح قیامت کے دن لوگوں کو زندہ کیا جائے گا۔ ( الزخرف : ١١) بعض مفسرین نے ” مُقَسِّمَاتِ“ سے مراد فرشتے لیے ہیں لیکن کلام کے سیاق وسباق سے یہ مفہوم لینا دور کی بات نظر آتی ہے۔ مسائل ١۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی مخلوق میں سے کئی چیزوں کی قسم اٹھائی ہے۔ ٢۔ کسی چیز کی قسم اٹھانے کا مقصد اس کی اہمیت کو نمایاں کرنا ہے۔ ٣۔ اللہ تعالیٰ نے ہوا بھی کئی قسم کی بنائی ہیں جو اپنا اپنا کام سرانجام دیتی ہیں۔ تفسیر بالقرآن قرآن مجید میں ہوا کا ذکر : ١۔ کفار کے اعمال کی مثال تیز آندھی کی سی ہے جس طرح تیز آندھی سب کچھ اڑا کرلے جاتی ہے ایسے ہی کفار کے اعمال اڑ جائیں گے۔ (ابراہیم : ١٨) ٢۔ قوم عاد زبر دست آندھی کے ذریعے ہلاک کی گئی۔ (الحاق : ٦) ٣۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت سلیمان کے لیے ہوا کو مسخر کردیا جو اس کے حکم سے چلتی تھی۔ (الانبیاء : ٨١) ٤۔ ہواؤں کے چلنے اور بادلوں کے مسخر ہونے میں اللہ کی قدرت کی نشانیاں ہیں۔ (البقرۃ : ١٦٤) (بنی اسرائیل : ٦٨)