سورة آل عمران - آیت 165

أَوَلَمَّا أَصَابَتْكُم مُّصِيبَةٌ قَدْ أَصَبْتُم مِّثْلَيْهَا قُلْتُمْ أَنَّىٰ هَٰذَا ۖ قُلْ هُوَ مِنْ عِندِ أَنفُسِكُمْ ۗ إِنَّ اللَّهَ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ

ترجمہ مکہ - مولانا جوناگڑھی صاحب

(کیا بات ہے) کہ جب تمہیں ایک ایسی تکلیف پہنچی کہ تم اس جیسی دو چند پہنچا چکے (١) تو یہ کہنے لگے یہ کہاں سے آ گئی؟ آپ کہہ دیجئے کہ یہ خود تمہاری طرف سے ہے (٢) بیشک اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے۔

تفسیر فہم القرآن - میاں محمد جمیل

فہم القرآن ربط کلام : احد کی شکست اور اس کے عوامل پر تبصرہ جاری ہے اس میں مسلمانوں کی انتظامی اور اخلاقی کمزوریوں کی نشاندہی کرتے ہوئے ان کی اصلاح کی جا رہی ہے۔ اُحد کی شکست کے اسباب میں دو سبب بڑے نمایاں تھے۔ منافقوں کا کردار اور مسلمانوں کا نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے حکم پر پوری طرح عمل کرنے کی بجائے درہ چھوڑنا۔ لہٰذا مختلف انداز اور الفاظ میں منافقوں کے کردار کی نشاندہی کرتے ہوئے یہ ثابت کیا گیا ہے کہ یہ ناقابل اعتماد اور آستین کے سانپ ہیں۔ ان سے ہر وقت بچنے کی ضرورت ہے۔ دوسرے سبب پر تبصرہ کرتے ہوئے بتلایا ہے کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ تم مسلمان ہو اور اللہ کا رسول تم میں موجود ہے لیکن تم نے رسول کے حکم کی نافرمانی کی۔ پہلے درّہ خالی کیا اور بعد میں میدان چھوڑ کر بھاگ نکلے اور اب تم یہ کہتے ہو کہ یہ شکست کیونکر ہوئی؟ اگر تم اپنے کیے پر توجہ کرو تو اس کا جواب تمہیں اپنے آپ سے مل جائے گا کہ یہ شکست تمہاری اپنی کمزوریوں کا نتیجہ ہے۔ یہاں ایک اور اصول بیان کیا ہے کہ انسان کو جو بھی مصائب اور پریشانیاں آتی ہیں حقیقتاً وہ اس کے اپنے ہی کیے دھرے کا نتیجہ ہوا کرتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ اس بات پر قادر ہے کہ وہ تمہارے اعمال کی سزا دنیا میں دے یا اسے آخرت کے لیے مؤخر کر دے۔ ذرا ماضی کے آئینہ میں جھانک کر دیکھو کہ تم اس سے دوگنا نقصان انہیں پہنچا چکے ہو۔ بدر میں ان کے ستر سر کردہ آدمی واصل جہنم ہوئے جن کی وہ لاشیں بھی نہ اٹھا سکے۔ ستر قیدی ہوئے جو فدیہ دے کر چھوٹے اور ان کا کافی سامان تمہارے ہاتھ آیا۔ ان کے مقابلے میں تمہارا نقصان احد میں کئی گنا کم ہوا اور وہ بھی تمہاری کوتاہی کی وجہ سے۔ مسائل ١۔ انسان کو پہنچنے والے مصائب اس کی اپنی وجہ سے ہوتے ہیں۔ ٢۔ جنگ میں اپنے اور کفار کے نقصان کا تجزیہ کرنا ضروری ہے۔ ٣۔ اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔