سورة الزخرف - آیت 81

قُلْ إِن كَانَ لِلرَّحْمَٰنِ وَلَدٌ فَأَنَا أَوَّلُ الْعَابِدِينَ

ترجمہ مکہ - مولانا جوناگڑھی صاحب

آپ کہہ دیجئے! اگر بالفرض رحمٰن کی اولاد ہو تو میں سب سے پہلے عبادت کرنے والا ہوتا (١)۔

تفسیر فہم القرآن - میاں محمد جمیل

فہم القرآن ربط کلام : نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ مکہ والوں کا بنیادی اختلاف ” اللہ“ کی توحید پر تھا۔ ان کا عقیدہ تھا کہ جس طرح اللہ تعالیٰ نے کچھ ہستیوں کو اپنی خدائی میں شریک کر رکھا ہے اسی طرح اللہ تعالیٰ نے ملائکہ کو بیٹیاں بنا کر انہیں اپنی خدائی میں شریک کرلیا ہے۔ قرآن مجید نے کئی بار اس بات کی نفی کی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے نہ تو کسی کو اپنی خدائی میں شریک کیا ہے اور نہ ہی کسی کو اپنی اولاد بنایا ہے۔ اس موقع پر اس بات کا صرف یہ جواب دیا ہے کہ اے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! ان سے ارشاد فرمائیں کہ اگر الرّحمن کی اولاد ہوتی توسب سے پہلے میں اس کی عبادت کرتا یعنی اسے تسلیم کرتا۔ مطلب یہ ہے کہ نہ اس کی اولاد ہے اور نہ میں اس بات کو تسلیم کرتا ہوں۔ یہ بھی ارشاد فرمائیں کہ جو کچھ الرّحمن کے بارے میں یہ یا وہ گوئی کرتے ہیں وہ اس سے پاک اور مبرّا ہے۔ وہ زمین و آسمانوں کا پیدا کرنے والا اور عرش کا مالک ہے۔ اگر یہ لوگ اتنی بڑی حقیقت کو نہیں مانتے تو انہیں ان کی یا وہ گوئی اور بے ہودگی کے لیے چھوڑ دیجیے ! یہاں تک کہ یہ اس دن کو پالیں جس دن کا ان کے ساتھ وعدہ کیا جاتا ہے۔ الرحمن ہی زمین و آسمانوں کا اکیلا الٰہ ہے۔ وہ سب کچھ جانتا ہے اور اس کے ہر فرمان میں حکمت پنہاں ہوتی ہے۔ مشرکین کی یا وہ گوئی کے باوجود اس نے انہیں ڈھیل دے رکھی ہے تو اس میں بھی اس کی حکمت پوشیدہ ہے کہ یہ لوگ کھل کر گناہ کرلیں تاکہ ان کے دل میں کوئی حسرت باقی نہ رہے اور قیامت کے دن انہیں ٹھیک، ٹھیک سزا دی جائے۔ یہ بات پہلے بھی عرض کی جا چکی ہے کہ اللہ تعالیٰ کو اولاد اور کسی شریک کی اس لیے ضرورت نہیں کیونکہ وہ زمین و آسمانوں اور جو کچھ ان کے درمیان ہے ان سب کا خالق، مالک، رازق اور بلاشرکت غیرے بادشاہ ہے۔ مسائل ١۔ اللہ تعالیٰ نے ملائکہ اور کسی کو اپنی اولاد نہیں بنایا۔ ٢۔ اللہ تعالیٰ زمین و آسمانوں کا اکیلا ہی رب ہے۔ ٣۔ مشرکین اپنی یا وہ گوئی سے باز نہیں آتے تو انہیں ان کی حالت پر چھوڑیں۔ ٤۔ اللہ ہی زمین و آسمانوں میں اکیلا الٰہ ہے جو بڑا حکمت والا اور سب کچھ جانتا ہے۔ تفسیر بالقرآن زمین و آسمانوں میں صرف ایک ہی الٰہ ہے : ١۔ ” اللہ“ نے زمین و آسمان کو پیدا کیا اور پھر آسمان سے پانی اتار کر باغات اگائے کیا اس کے ساتھ کوئی اور بھی الٰہ ہے؟ (النمل : ٦٠) ٢۔ ” اللہ“ نے زمین کو جائے قرار بنایا اس میں پہاڑ اور دو سمندروں کے درمیان پردہ بنایا کیا اس کے ساتھ اور بھی الٰہ ہے؟ (النمل : ٦١) ٣۔ کون ہے جو لاچار کی فریاد رسی کرتا ہے اور اس کی تکلیف کو دور کرتا ہے کیا کوئی اور بھی الٰہ ہے ؟ (النمل : ٦٢) ٤۔ خشکی اور سمندر کی تاریکیوں میں اللہ کے سواکون رہنمائی کرتا ہے کیا کوئی اور بھی اس کے ساتھ الٰہ ہے۔ (النمل : ٦٣) ٥۔ پہلے اور دوبارہ پیدا کرنا اور زمین و آسمان سے تمہارے لیے روزی کا بندوبست کرنے والا اللہ کے سوا کوئی اور الٰہ ہے؟ (النمل : ٦٤) ٦۔ آپ فرما دیں سوائے ایک الٰہ کے آسمان وز میں کے غیب کو کوئی نہیں جانتا۔ (النمل : ٦٥) ٧۔ کیا کوئی ہے اس الٰہ کے سوا ہے جو رات ختم کرکے دن لائے ؟ (القصص : ٧١) ٨۔ کیا کوئی ہے اس الٰہ کے علاوہ الٰہ ہے جو دن ختم کرکے رات لے آئے ؟ (القصص : ٧٢) ٩۔ بس اس ایک الٰہ کے سوا کسی دوسرے الٰہ کو نہ پکارو۔ (القصص : ٨٨)