سورة الشورى - آیت 30

وَمَا أَصَابَكُم مِّن مُّصِيبَةٍ فَبِمَا كَسَبَتْ أَيْدِيكُمْ وَيَعْفُو عَن كَثِيرٍ

ترجمہ مکہ - مولانا جوناگڑھی صاحب

تمہیں جو کچھ مصیبتیں پہنچتی ہیں وہ تمہارے اپنے ہاتھوں کے کرتوت کا بدلہ ہے، اور وہ تو بہت سی باتوں سے درگزر فرما دیتا ہے (١)

تفسیر فہم القرآن - میاں محمد جمیل

فہم القرآن ربط کلام : اللہ تعالیٰ صرف قیامت کے دن لوگوں کو جمع کرنے پر قادر نہیں بلکہ وہ دنیا میں بھی لوگوں پر ہر قسم کا اختیار رکھتا ہے۔ وہ جسے چاہتا ہے اسکی کوتاہی پر پکڑ لیتا ہے اور جسے چاہتا ہے اس سے درگزر کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہر اعتبار سے اپنی مخلوق پر قادر ہے۔ یہ اس کی قدرت کی نشانی اور اختیار ہے کہ جسے چاہے اس کے گناہوں کی پاداش میں پکڑ لے اور جسے چاہے معاف کردے۔ اکثر انسانوں میں ہمیشہ سے یہ کوتاہی اور کمزوری رہی ہے کہ وہ اپنی غلطیوں کا اعتراف کرنے کی بجائے اپنے گناہوں، پر اصرار اور ان کا جواز تلاش کرتے ہیں۔ بسا اوقات خدا کے باغی یہ کہتے ہوئے سنائی دیتے ہیں یہ تو لیل ونہار کی گردش اور حالات کے تغیر وتبدل کا نتیجہ ہے گویا ان کے نزدیک ایسا ہوا ہی کرتا ہے۔ (وَقَالُوا مَا ھِیَ إلاّ حَیَاتُنَا الدُّنْیَا نَمُوْتُ وَنَحْیَا وَمَا یُھْلِکُنَا إلاّ الدَّھْرُ وَمَا لَھُمْ بِذَلِکَ مِنْ عِلْمٍ إنْ ھُمْ إلاّیَظُنُّوْنَ) [ الجاثیۃ: ٢٤] ” وہ کہتے ہیں ہماری اس زندگی کے علاوہ کوئی دوسری زندگی نہیں ہمیں یہیں زندہ رہنا اور مرنا ہے، اور ہماری ہلاکت گردش زما نہ کی وجہ سے ہے۔ حالانکہ انہیں اس حقیقت کا کوئی علم نہیں، یہ محض ان کے خیالات ہیں۔“ ایسے انسان بھی ہر دور میں موجود رہے ہیں جو اپنے احوال کی درستگی کے برعکس اس کی ذمہ داری ان لوگوں پر ڈالتے رہے ہیں جو حالات کو بدلنے اور ان کو برے اعمال چھوڑنے کی تلقین کرتے ہیں۔ (قَالُوْا إنَّا تَطَیَّرْنَا بِکُمْ لَءِنْ لَّمْ تَنْتَھُوْا لَنَرْجُمَنَّکُمْ وَلَیَمَسَّنَّکُمْ مِّنَّا عَذَابٌ ألِیْمٌ) [ یٰس : ١٨] ” وہ مصلحین کو کہنے لگے کہ ہم تمہیں اپنے لیے منحوس خیال کرتے ہیں، اگر تم باز نہ آئے تو ہم تمہیں ضرور سنگسار کردیں گے اور تمہیں ہماری طرف سے درد ناک سزا کا سامنا کرنا ہوگا۔“ ان کا کہنا تھا کہ یہ مشکلات ومصائب ہماری وجہ سے نہیں، تمہاری وجہ سے آیا کرتی ہیں جب ان کے سامنے حقائق کے پردے کھلتے ہیں تو تسلیم و اعتراف کی گردن جھکا نے کی بجائے سب کچھ تقدیر کے حوالے کرتے ہوئے اپنے آپ کو پاک دامن اور معصوم خیال کرتے ہیں۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ جو کچھ تمہارے ساتھ بیت رہی ہے وہ تمہارے گناہوں کی ہلکی سی سرزنش ہے۔ جبکہ تمہاری بے شمار غلطیوں اور زیادتیوں سے صرف نظر کیا جاتا ہے۔ دنیا میں تمہارے دامن کو تھوڑا سا کھینچا اور گریبان کو ہلکا سا جھنجھوڑا جاتا ہے تو اس میں بھی اللہ تعالیٰ کی شفقت و مہربانی پنہاں ہے تاکہ تمہارے قدم بغاوت ونا فرمانی سے رک جائیں اور تم مالک حقیقی کی طرف پلٹ آؤ۔ سمجھدار اور نیکو کار لوگ اپنی کمزوریوں اور ان کے بدلے میں پیدا ہونے والے حا لات کو اپنے کردار کے حوالے سے ہی دیکھا کرتے ہیں۔ (ظَھَرَ الْفَسَادُ فِی الْبَرِّ وَ الْبَحْرِ بِمَا کَسَبَتْ اَیْدِی النَّاسِ لِیُذِیْقَھُمْ بَعْضَ الَّذِیْ عَمِلُوْا لَعَلَّھُمْ یَرْجِعُوْنَ)[ الروم : ٤١] ” لوگوں کے اپنے ہاتھوں کے کیے کی وجہ سے خشکی اور سمندر میں فساد برپا ہوگیا ہے تاکہ ان کو ان کے بعض اعمال کا مزا چکھایاجائے شاید کہ وہ باز آجائیں۔“ (وَ لَنُذِیْقَنَّھُمْ مِّنَ الْعَذَابِ الْاَدْنٰی دُوْنَ الْعَذَابِ الْاَکْبَرِ لَعَلَّھُمْ یَرْجِعُوْنَ) [ السجدۃ: ٢١] ” اس بڑے عذاب سے پہلے ہم اسی دنیا میں کسی نہ کسی چھوٹے عذاب کا مزا انہیں چکھاتے رہیں گے، شاید وہ اپنی باغیانہ روش سے باز آجائیں۔“ (فَلَنُذِیقَنَّ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا عَذَابًا شَدِیْدًا وَّلَنَجْزِیَنَّہُمْ اَسْوَاَ الَّذِیْ کَانُوْا یَعْمَلُوْنَ) [ حٰم السجدۃ: ٢٧] ” ان کافروں کو ہم سخت عذاب کا مزا چکھائیں گے اور ہم ان کے برے اعمال کی پوری پوری سزا دیں گے۔“