سورة آل عمران - آیت 128

لَيْسَ لَكَ مِنَ الْأَمْرِ شَيْءٌ أَوْ يَتُوبَ عَلَيْهِمْ أَوْ يُعَذِّبَهُمْ فَإِنَّهُمْ ظَالِمُونَ

ترجمہ مکہ - مولانا جوناگڑھی صاحب

اے پیغمبر! آپ کے اختیار میں کچھ نہیں (١) اللہ تعالیٰ چاہے تو ان کی توبہ قبول کرلے (٢) یا عذاب دے کیونکہ وہ ظالم ہیں۔

تفسیر فہم القرآن - میاں محمد جمیل

فہم القرآن ربط کلام : جس طرح اللہ تعالیٰ کی نصرت کے بغیر کوئی کسی کی مدد نہیں کرسکتا۔ اسی طرح معاف کرنا یا کسی کو عذاب دینا بھی اللہ ہی کے اختیار میں ہے کیونکہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کی ملکیت ہے۔ غزوۂ احد میں مسلمانوں کے سر کردہ جنگجو یہاں تک کہ حضرت حمزہ (رض) بڑی بیدردی کے ساتھ شہید کردیے گئے اور رسول مکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ذات اقدس کو بھی زخم آئے، رباعی دانت شہید ہوا اور آپ بے ہوش ہو کر ایک گھاٹی میں جا گرے جونہی ہوش سنبھالا تو آپ کی زبان اطہر سے بے ساختہ بددُعا نکلی : (کَیْفَ یُفْلِحُ قَوْمٌ شَجُّوْا نَبِیَّھُمْ وَکَسَرُوْا رُبَاعِیَتَہٗ وَھُوَ یَدْعُوْھُمْ إِلَی اللّٰہِ فَأَنْزَلَ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ (لَیْسَ لَکَ مِنَ الْأَمْرِ شَیْءٌ) [ رواہ مسلم : کتاب الجھاد والسیر، باب غزوۃ أحد] ” وہ قوم کیسے فلاح پائے گی جس نے اپنے نبی کاسر پھوڑ ڈالا اور اس کا دانت شہید کردیا؟ حالانکہ وہ انہیں اللہ کی طرف دعوت دیتا ہے۔ تب اللہ تعالیٰ نے آیت نازل فرمائی کہ میرے محبوب! آپ کو کسی چیز کا اختیار نہیں ہے۔“ (عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عُمَر (رض) أَنَّہٗ سَمِعَ رَسُوْلَ اللّٰہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) إِذَ ارَفَعَ رَأْسَہٗ مِنَ الرُّکُوْعِ مِنَ الرَّکْعَۃِ الْآخِرَۃِ مِنَ الْفَجْرِ یَقُوْلُ اللّٰھُمَّ الْعَنْ فُلَانًا وَفُلَانًا وَفُلَانًا بَعْدَ مَایَقُوْلُ سَمِعَ اللّٰہُ لِمَنْ حَمِدَہٗ رَبَّنَا وَلَکَ الْحَمْدُ فَأَنْزَلَ اللّٰہُ (لَیْسَ لَکَ مِنَ الْأَمْرِ شَیْءٌ )إِلٰی قَوْلِہٖ (فَإِنَّھُمْ ظَالِمُوْنَ) وَعَنْ حَنْظَلَۃَ بْنِ أَبِیْ سُفْیَانَ سَمِعْتُ سَالِمَ بْنَ عَبْدِ اللّٰہِ یَقُوْلُ کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یَدْعُو عَلٰی صَفْوَانَ بْنِ أُمَیَّۃَ وَسُھَیْلِ بْنِ عَمْرٍو وَالْحَارِثِ بْنِ ھِشَامٍ فَنَزَلَتْ (لَیْسَ لَکَ مِنَ الْأَمْرِ شَیْءٌ )إِلٰی قَوْلِہٖ (فَإِنَّھُمْ ظَالِمُوْنَ) [ رواہ البخاری : کتاب المغازی، باب لیس لک من الأمر شیء ] ” حضرت عبداللہ بن عمر (رض) بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنا جب آپ فجر کی دوسری رکعت میں رکوع سے سر اٹھا نے اور سمع اللہ لمن حمدہ کہنے کے بعد دعا کر رہے تھے۔ اے اللہ! فلاں اور فلاں پر لعنت فرما۔ تب اللہ تعالیٰ نے (لَیْسَ لَکَ مِنَ الْأَمْرِ شَیْءٌ۔۔ فَإِنَّھُمْ ظَالِمُوْنَ) آیت نازل فرمائی۔ حنظلہ بن ابی سفیان نے سالم بن عبداللہ کو کہتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) صفوان بن امیہ، سہیل بن عمرو اور حارث بن ہشام کے لیے بد دعا کرتے تو (لَیْسَ لَکَ مِنَ الْأَمْرِ شَیْءٌ۔۔ فَإِنَّھُمْ ظَالِمُوْنَ) آیت نازل ہوئی۔“ اس فرمان میں آپ کی توجہ مبذول کروائی گئی ہے کہ میرے محبوب! آپ کو دل شکستہ اور حوصلہ نہیں ہارنا چاہیے کیونکہ کسی کو معاف کرنا یا اسے عذاب دینا آپ کے اختیار میں نہیں یہ تو رب کبریا کے فیصلے ہیں جو اس کی حکمت کے مطابق صادر ہوتے ہیں۔ زمین و آسمان کی ہر چیز اسی کی ملکیت ہے اور وہ لا محدود اختیارات اور ہر چیز کی ملکیت رکھنے کے باوجود معاف کرنے والا اور نہایت ہی مہربان ہے۔ آپ کو بددعا سے منع کرنے کا نتیجہ یہ نکلا کہ تھوڑے ہی عرصے بعد احد میں کفار کے لشکر کی کمان کرنے، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور مسلمانوں کوسب سے زیادہ نقصان پہنچانے والے خالد بن ولید، عمرو بن عاص، ابوسفیان بن حرب اور بڑے بڑے لوگ مسلمان ہوئے یہاں تک کہ پورے عرب میں لوگ حلقۂ اسلام میں داخل ہونے لگے۔ مسائل ١۔ حقیقتاً کسی کو معاف کرنا یا عذاب دینا صرف اللہ کا اختیار ہے۔ ٢۔ زمین و آسمان کی ہر چیز اللہ تعالیٰ کی ملکیت ہے۔ ٣۔ اللہ تعالیٰ غفورورحیم ہے۔ تفسیر بالقرآن اللہ ہی مختار کل ہے : ١۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کسی پر عذاب نازل کرنے کا اختیار نہیں رکھتے۔ (آل عمران : ١٢٨) ٢۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو منافقین کے لیے دعا اور ان کی قبروں پر جانے سے روک دیا گیا۔ (التوبۃ: ٨٤) ٣۔ نبی مشرک کے لیے دعائے مغفرت کرنے کا مجاز نہیں۔ (التوبۃ: ١١٣) ٤۔ اللہ تعالیٰ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی رضا کا پابند نہیں۔ (التوبۃ: ٩٦) ٥۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نفع ونقصان کا اختیار نہیں رکھتے۔ (الجن : ٢١) ٦۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جسے چاہیں ہدایت نہیں دے سکتے۔ (القصص : ٥٦)