سورة لقمان - آیت 23

وَمَن كَفَرَ فَلَا يَحْزُنكَ كُفْرُهُ ۚ إِلَيْنَا مَرْجِعُهُمْ فَنُنَبِّئُهُم بِمَا عَمِلُوا ۚ إِنَّ اللَّهَ عَلِيمٌ بِذَاتِ الصُّدُورِ

ترجمہ مکہ - مولانا جوناگڑھی صاحب

کافروں کے کفر سے آپ رنجیدہ نہ ہوں (١) آخر ان سب کا لوٹنا تو ہماری جانب ہی ہے پھر ہم ان کو بتائیں گے جو انہوں نے کیا، بیشک اللہ سینوں (٢) کے بھید (٣) تک سے واقف ہے۔

تفسیر فہم القرآن - میاں محمد جمیل

فہم القرآن ربط کلام : جس نے کتاب اللہ کے ساتھ تمسّک کرنے سے انکار کردیا اس کا انجام بدترین ہوگا۔ سروردوعالم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) صبح و شام اس فکر اور کوشش میں رہتے تھے کہ لوگ ہدایت پر گامزن ہو کر جہنم کی ہولناکیوں سے اپنے آپ کو بچالیں۔ لیکن لوگ ہدایت کی طرف آنے کی بجائے گمراہی کی طرف سرپٹ دوڑے جاتے تھے۔ جس پر آپ دل گرفتہ ہوجاتے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو تسلی اور ڈھارس دینے کے لیے ارشاد ہوا کہ ان کے کفرو شرک پر جمے رہنے سے آپ دل گرفتہ نہ ہوں۔ آپ کا کام حق بات پہنچانا ہے جس کا آپ حق ادا کر رہے ہیں منوانا آپ کا کام نہیں۔ جو لوگ حق کا انکار کرتے ہیں بالآخر انہیں ہماری طرف لوٹنا ہے دنیا میں ہم ان کو قلیل فائدہ دیں گے اور پھر انہیں شدید عذاب کی طرف مجبور کردیں گے۔ دنیا کا فائدہ ہے آخرت کے مقابلے مدّت اور حیثیت کے اعتبار سے بالکل ہی قلیل ہے۔ جہنم کی طرف مجبور کرنے کا معنٰی یہ ہے کہ جہنمی جہنم کو دیکھ کر آہ وزاریاں کریں گے مگر ملائکہ ان کو ہانک کر اور کسی کو چہرے کے بل گھسیٹ کر جہنم میں پھینک دیں گے۔ مسائل ١۔ داعی کو لوگوں کے کفرو شرک پر دل گرفتہ ہونے کی بجائے اپنا کام جاری رکھنا چاہیے۔ ٢۔ ہر کسی نے اپنے رب کے حضور پیش ہونا اور اپنے اعمال کا سامنا کرنا ہے۔ ٣۔ اللہ تعالیٰ لوگوں کے اعمال ہی نہیں بلکہ ان کے دلوں کی حالت بھی جانتا ہیں۔