سورة الروم - آیت 33

وَإِذَا مَسَّ النَّاسَ ضُرٌّ دَعَوْا رَبَّهُم مُّنِيبِينَ إِلَيْهِ ثُمَّ إِذَا أَذَاقَهُم مِّنْهُ رَحْمَةً إِذَا فَرِيقٌ مِّنْهُم بِرَبِّهِمْ يُشْرِكُونَ

ترجمہ مکہ - مولانا جوناگڑھی صاحب

لوگوں کو جب کبھی کوئی مصیبت پہنچتی ہے تو اپنے رب کیطرف (پوری طرح) رجوع ہو کر دعائیں کرتے ہیں، پھر جب وہ اپنی طرف سے رحمت کا ذائقہ چکھاتا ہے تو ان میں سے ایک جماعت اپنے رب کے ساتھ شرک کرنے لگتی ہے۔

تفسیر فہم القرآن - میاں محمد جمیل

فہم القرآن ربط کلام : جو لوگ مفاد اور تعصبات کی خاطر دین کو ٹکڑے ٹکڑے کرتے اور اس پر خوش ہوتے ہیں ان کی حالت یہ ہوتی ہے کہ انہیں معمولی تکلیف پہنچے تو وہ مخلص ہو کر اپنے رب کو پکارتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کی بات ماننے کے دل میں وعدے بھی کرتے ہیں۔ ایک رب کو ماننا اور ہر حال میں اسی کو پکارنا ہی انسان کی فطرت ہے اور ہونی چاہیے۔ اکثر انسانوں کی فطرت ہے کہ جب انہیں کوئی تکلیف پہنچتی تو اپنے رب کی طرف رجوع کرتے ہیں اور گڑگڑا کر دعائیں کرتے ہیں کہ الٰہی میری مشکل حل فرما اور مجھے اس تکلیف سے نجات دے دے۔ جب تکلیف رفع ہوجاتی ہے تو اپنے رب سے اس طرح لاتعلق ہوجاتے ہیں جیسے انہوں نے اپنے رب کو پکارا ہی نہیں تھا۔ ان میں سے جو لوگ مشرکانہ عقیدہ رکھتے ہیں انکی حالت اس سے بھی بدتر ہوتی ہے وہ نہ صرف اپنے رب کو بھول جاتے ہیں بلکہ اس کے ساتھ دوسروں کو شریک بھی کرتے ہیں۔ پہلے زمانے کے مشرک اکثر ایسا کیا کرتے تھے۔ لیکن آج کلمہ پڑھنے والے بہت سے مشرکوں کا حال یہ ہے کہ انتہائی تکلیف کے وقت بھی اپنے رب کے ساتھ دوسروں کو شریک کرتے ہیں۔ ایسے لوگوں کو سمجھایا جائے تو اوٹ پٹانگ باتیں بناتے ہیں۔ ان کی باتیں بحث برائے بحث کے سوا کچھ نہیں ہوتیں کیونکہ ان کے پیچھے کوئی معقول دلیل نہیں ہوتی۔ اللہ تعالیٰ نے مشرکوں کے اس شرک کو کفر قرار دیتے ہوئے انتباہ کیا ہے کہ جو کچھ ہم نے تمہیں مہلت اور فائدہ دے رکھا ہے اس سے فائدہ اٹھالو۔ اور بہت جلد تمہیں اپنے کفرو شرک کے انجام کا علم ہوجائے گا۔ آخر میں سوالیہ انداز میں فرمایا ہے کہ کیا ہم نے شرک کی کوئی دلیل نازل کی ہے کہ جس کے ساتھ مشرک اپنے شرک کے بارے میں بحث وتکرار کرتے ہیں۔ ظاہر بات ہے کہ اللہ تعالیٰ نے شرک کی حمایت اور تائید میں کوئی دلیل نازل نہیں۔ لہٰذا مشرک خواہ مخواہ حجت بازی کرتے ہیں۔ نہ صرف شرک کرتا ہے بلکہ بلا دلیل اپنے شرک کے بارے میں اصرار اور تکرار کرتا ہے۔ مسائل ١۔ انسان مصیبت کے وقت اپنے رب کی طرف رجوع کرتا ہے۔ ٢۔ اکثر لوگ مصیبت ٹل جانے کے بعد اپنے رب کے ساتھ شرک کرتے ہیں۔ ٣۔ کفرو شرک کرنے والوں کو بہت جلد ان کے انجام کا علم ہوجائے گا۔ ٤۔ مشرک کے پاس شرک کرنے کی معقول دلیل نہیں ہوتی۔ تفسیر بالقرآن شرک کی کوئی دلیل نہیں لیکن مشرک پھر بھی شرک کرتے ہیں : ١۔ جو اللہ تعالیٰ کے علاوہ کسی غیر کو پکارتا ہے اس کے پاس کوئی دلیل نہیں ہے۔ (المؤمنون : ١١٧) ٢۔ انہوں نے اللہ کے علاوہ کئی معبود بنالیے ہیں آپ فرمائیں کوئی دلیل لاؤ۔ (الانبیاء : ٢٤) ٣۔ اس کے سوا کوئی اور بھی الٰہ ہے کوئی دلیل لاؤ اگر تم سچے ہو۔ (النمل : ٦٤) ٤۔ اے لوگو! تمہارے پاس رب کی طرف سے دلیل آچکی ہے۔ (النساء : ١٧٥) ٥۔ وہ اللہ کے سوا ان کی عبادت کرتے ہیں جن کی عبادت کے لیے کوئی دلیل نازل نہیں کی گئی۔ (الحج : ٧١) ٦۔ تم اللہ تعالیٰ کے ساتھ شریک ٹھہراتے ہوئے نہیں ڈرتے جس کی اللہ نے کوئی دلیل نازل نہیں کی۔ (الانعام : ٨١) ٨۔ بتوں کے الٰہ ہونے کی کوئی دلیل نہیں۔ (النجم : ٢٣)