سورة العنكبوت - آیت 31

وَلَمَّا جَاءَتْ رُسُلُنَا إِبْرَاهِيمَ بِالْبُشْرَىٰ قَالُوا إِنَّا مُهْلِكُو أَهْلِ هَٰذِهِ الْقَرْيَةِ ۖ إِنَّ أَهْلَهَا كَانُوا ظَالِمِينَ

ترجمہ مکہ - مولانا جوناگڑھی صاحب

اور جب ہمارے بھیجے ہوئے فرشتے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے پاس بشارت لے کر پہنچے کہنے لگے کہ اس بستی والوں کو ہم ہلاک کرنے والے ہیں (١) یقیناً یہاں کے رہنے والے گنہگار ہیں۔

تفسیر فہم القرآن - میاں محمد جمیل

فہم القرآن ربط کلام : قوم لوط کو تباہ کرنے والے ملائکہ سے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا تکرار۔ قوم لوط کو تباہ کرنے سے پہلے یہی ملائکہ حضرت اسحاق (علیہ السلام) اور حضرت یعقوب ( علیہ السلام) کی خوشخبری دینے کے لیے ابراہیم (علیہ السلام) کے پاس گئے۔ جس کا تذکرہ سورۃ ھود، آیت : ٦٩ تا ٧٣ میں اس طرح ہوا ہے۔ ملائکہ جب حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو بیٹے اور پوتے کی خوشخبری دے کر رخصت ہونے لگے تو انھوں نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو بتایا کہ ہم قوم لوط کو تباہ کرنے کے لیے بھی بھیجے گئے، اس لیے اب ہم اس بستی کی طرف جا رہے ہیں تاکہ اسے نیست و نابود کردیا جائے کیونکہ اس میں رہنے والے بڑے ظالم لوگ ہیں۔ حضرت ابراہیم ( علیہ السلام) فرمانے لگے کہ ان میں لوط ( علیہ السلام) بھی موجود ہیں۔ ملائکہ نے فرمایا کہ ہاں ہمیں معلوم ہے کہ اس بستی میں لوط بھی موجود ہیں۔ لیکن ہم لوط (علیہ السلام) اور اس کے ایمان دار ساتھیوں کو وہاں سے نکلنے کا موقعہ دیں گے۔ البتہ لوط (علیہ السلام) کی بیوی تباہ ہونے والوں میں شامل ہوگی۔