سورة البقرة - آیت 22

الَّذِي جَعَلَ لَكُمُ الْأَرْضَ فِرَاشًا وَالسَّمَاءَ بِنَاءً وَأَنزَلَ مِنَ السَّمَاءِ مَاءً فَأَخْرَجَ بِهِ مِنَ الثَّمَرَاتِ رِزْقًا لَّكُمْ ۖ فَلَا تَجْعَلُوا لِلَّهِ أَندَادًا وَأَنتُمْ تَعْلَمُونَ

ترجمہ مکہ - مولانا جوناگڑھی صاحب

جس نے تمہارے لئے زمین کو فرش اور آسمان کو چھت بنایا اور آسمان سے پانی اتار کر اس سے پھل پیدا کر کے تمہیں روزی دی، خبردار باوجود جاننے کے اللہ کے شریک مقرر نہ کرو (١)۔

تفسیر فہم القرآن - میاں محمد جمیل

اس تصور عبادت سے ہٹنا مقصد حیات کی نفی اور غیر اللہ کی عبادت کرنے کے مترادف ہے۔ جس کا آدمی کو کسی حال میں بھی حق نہیں پہنچتا۔ ایمان، کفر اور نفاق کی بڑی بڑی نشانیاں ذکر کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے بلا امتیاز تمام طبقات انسانی کو عبادت کا حکم دیتے ہوئے اپنی عبادت کے استحقاق کی یہ دلیل دی ہے کہ اس رب کی عبادت کرو جس نے تمہیں، تمہارے آباؤ اجداد اور سب لوگوں کو پیدا فرمایا۔ اسی نے تمہارے لیے زمین کو فرش بنایا اور آسمان کو سائبان، پھر آسمان سے پانی نازل کیا جس سے تمہارے رزق کا بندوبست فرمایا۔ یہ سب کچھ ایک رب نے پیدا کیا اور وہی تمہارا خالق و مالک ہے۔ یہ حقائق تم بھی جانتے ہو کہ تخلیقِ کائنات اور ان امور میں اللہ تعالیٰ کا دوسرا کوئی شریک اور سہیم نہیں ہے پھر ایسے رب کے ساتھ دوسروں کو شریک بنانے کی کس طرح جرأت کرتے ہو ؟ جس کی تمہارے پاس کوئی دلیل نہیں لہٰذا تمہیں صرف ایک اللہ کی ہی عبادت کرنا چاہیے۔ توحید ربوبیت اور خالقیت کا شعور دلا کر انسان کے ضمیر کو جھنجھوڑا ہے کہ انسان یہ سمجھے کہ کسی غیر کی نہیں بلکہ میں اپنے خالق، رازق اور مالک کی ہی عبادت کر رہا ہوں۔ ابتدا میں توحید کے طبعی‘ فطری اور آفاقی دلائل دئیے گئے ہیں تاکہ انسان کو توحید سمجھنے میں آسانی ہو۔ اسی سے قرآن مجید کا آغاز ہوا ہے کیونکہ توحید فطرت کی آواز اور انسان کے ضمیر کی ترجمان ہے۔ (إِقْرَأْ باسْمِ رَبِّکَ الَّذِیْ خَلَقَ) (العلق : ١) ” اپنے پیدا کرنے والے رب کے نام سے پڑھیے۔“ ایک مبلغ کا فرض بنتا ہے کہ وہ اپنے سامع کے سامنے او لاً ایسی دلیل پیش کرے جس کو سمجھنے اور تسلیم کرنے میں سننے والے کو آسانی ہو۔ لہٰذا یہاں پانچ دلائل ایسے بیان ہوئے ہیں جن کا بدترین منکر بھی انکار نہیں کرسکتا۔ یہاں تخلیق انسانی کے مختلف دلائل دیے جاتے ہیں باقی دلائل کی تفصیل اپنے اپنے مقام پر بیان ہوگی۔ ” اور ہم نے انسان کو مٹی کے خلاصے سے پیدا کیا۔ پھر اس کو ایک محفوظ جگہ میں نطفہ بنا کر رکھا۔ پھر نطفے کا لوتھڑا بنایا۔ پھر لوتھڑے کی بوٹی بنائی، پھر بوٹی کی ہڈیاں بنائیں، پھر ہڈیوں پر گوشت چڑھایا پھر اس کو نئی صورت بنا دیا۔ اللہ جو سب سے بہترین بنانے والا بڑا بابرکت ہے۔“ [ المومنون : ١٢ تا ١٤] اَنْدَادًا ” ند“ کی جمع ہے جس کا معنٰی ہے ہمسر اور شریک۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کا سدِّ باب کرنے کے لیے ہر ایسے قول وفعل سے منع فرمایا ہے جس میں شرک کا شائبہ بھی پایا جاتاہو۔ ایک آدمی نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کہا :” مَاشَآء اللّٰہُ وَشِءْتَ“” جس طرح اللہ اور آپ چاہیں۔“ اس پر آپ نے فرمایا : ” جَعَلْتَ لِلّٰہِ نِدًّا“ ” تو نے مجھے اللہ کا شریک ٹھہرادیا ہے کہو ” مَا شَآء اللّٰہُ وَحْدَہٗ“ ” جو اللہ اکیلا چاہے۔“ (مسند احمد) مسائل ١۔ اللہ تعالیٰ ہی تمام انسانوں کا خالق اور پالنے والا ہے۔ سب کو اپنے رب کی عبادت کرنا چاہیے۔ ٢۔ اللہ ہی نے زمین کو فرش، آسمان کو چھت بنایا اور وہی آسمان سے بارش نازل کرتا اور ہمارے لیے رزق پیدا کرتا ہے۔ ٣۔ اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کرنا چاہیے۔ ٤۔ ہر کوئی جانتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا کوئی شریک نہیں۔ تفسیر بالقرآن عبادت اور انبیاء ( علیہ السلام) کی دعوت : ١۔ جن اور انسان اللہ کی عبادت کے لیے پیدا کیے گئے ہیں۔ (الذّاریات : ٥٦) ٢۔ تمام انبیاء اللہ تعالیٰ کی عبادت کی دعوت دیتے اور شیطان کی عبادت سے روکتے تھے۔ (الاعراف : ٥٩، ٦٥، ٧٣) ٣۔ عبادت کا مفہوم۔ (انعام : ١٦٣) ٤۔ اللہ کی عبادت کرنے میں کامیابی ہے۔ (الحج : ٧٧) تخلیق انسانی کے مراحل : ١۔ حضرت آدم (علیہ السلام) مٹی سے پیدا کیے گئے۔ (آل عمران : ٥٩) ٢۔ حضرت حوا، حضرت آدم ( علیہ السلام) سے پیدا ہوئی۔ (النساء : ١) ٣۔ انسان کی تخلیق کے مختلف مراحل۔ (المؤمنون : ١٢ تا ١٤) ٤۔ یقیناً ہم نے انسان کو کھنکھناتی ہوئی مٹی سے پیدا کیا۔ (الحجر : ٢٦) ٥۔ اللہ نے انسان کو مخلوط نطفہ سے پیدا کیا۔ (الدھر : ٢) ٦۔ اللہ نے تمہیں مٹی سے پیدا کیا، پھر اسے نطفہ بنایا، پھر اس سے خون کا لوتھڑا، پھر اس سے بوٹی بنا کر۔ (الحج : ٥) ٧۔ اللہ نے تمہیں مٹی سے پیدا کیا، پھر نطفہ، پھر لوتھڑا بنا کر تمہیں پیدا کرتا ہے کہ تم بچے ہوتے ہو۔ (المومن : ٦٧) ٨۔ کیا تو اس ذات کا کفر کرتا ہے جس نے تجھے مٹی سے پیدا فرمایا۔ (الکہف : ٣٧)