سورة النور - آیت 45

وَاللَّهُ خَلَقَ كُلَّ دَابَّةٍ مِّن مَّاءٍ ۖ فَمِنْهُم مَّن يَمْشِي عَلَىٰ بَطْنِهِ وَمِنْهُم مَّن يَمْشِي عَلَىٰ رِجْلَيْنِ وَمِنْهُم مَّن يَمْشِي عَلَىٰ أَرْبَعٍ ۚ يَخْلُقُ اللَّهُ مَا يَشَاءُ ۚ إِنَّ اللَّهَ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ

ترجمہ مکہ - مولانا جوناگڑھی صاحب

تمام کے تمام چلنے پھرنے والے جانداروں کو اللہ تعالیٰ ہی نے پانی سے پیدا کیا ان میں سے بعض تو اپنے پیٹ کے بل چلتے ہیں (١) بعض دو پاؤں پر چلتے ہیں (٢) بعض چارپاؤں پر (٣)، اللہ تعالیٰ جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے (٤) بیشک اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے۔

تفسیر فہم القرآن - میاں محمد جمیل ایم اے

فہم القرآن: (آیت 45 سے 46) ربط کلام : فلکیات کے ذکر کے بعد حیوانات کے بارے میں غور کرنے کی ترغیب۔ اللہ تعالیٰ نے ہر چلنے پھرنے والے جاندار کو پانی سے پیدا کیا ہے ان میں کچھ پیٹ کے بل رینگتے ہیں کچھ دو پاؤں پہ چلتے ہیں اور کچھ ان میں چار پاؤں پر چلتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ جس طرح چاہتا ہے پیدا کرتا ہے اس میں کوئی شک نہیں کہ اللہ ہر چیز پر کامل اور اکمل قدرت رکھنے والا ہے۔ اسی نے یہ روشن آیات نازل فرمائیں اور وہی صراط مستقیم کی ہدایت دینے والا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فلکیات اور لیل ونہار کے بارے میں انسان کو غور کرنے کا حکم دیا ہے اور یہ بھی اس کا فرمان ہے کہ انسان کو اس بات پر بھی غور کرنا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ نے پیٹ کے بل رینگنے والے دو اور چار ٹانگوں پر چلنے والے ہر جاندار کو پانی سے پیدا کیا ان جانداروں کا رنگ، جسم، بناوٹ، قوت، رہن سہن اور کھانے پینے پر غور کریں کہ کوئی چیز بھی ان کی ایک دوسرے کے ساتھ نہیں ملتی۔ شیر اور چیتے کچھاروں اور غاروں میں سکون پاتے ہیں۔ کیڑے مکوڑے، سانپ اور بچھو بلوں میں رہتے ہیں۔ ہاتھی اور اس کے قریب کی جنس کے چوپائے گھنے جنگلوں میں بسیرا کرتے ہیں۔ پرندے فضا میں اڑتے اور درختوں میں گھونسلے بناتے ہیں۔ انسان بھی دو ٹانگوں پر چلنے والا ایک جاندار ہے جو سب پر حکومت کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اسے بھی پانی کی ایک بوند سے پیدا کیا ہے۔ پانی بھی اللہ تعالیٰ کی مخلوقات میں ایک مخلوق ہے جسے زمینی مخلوق میں سب سے پہلے پیدا کیا ہے جس کی قرآن مجید میں ان الفاظ میں وضاحت فرمائی ہے کہ وہی ذات ہے جس نے زمین و آسمان کو چھ دن میں پیدا کیا اور اس کا عرش پانی پر تھا (ہود : آیت7) سترھویں پارے میں ارشاد ہے کہ ہم نے ہر جاندار چیز کو پانی سے پیدا کیا ہے اسی لیے جاندار چیزوں کی بقا کے لیے پانی بے حد ضروری ہے اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں یہ حقائق مدلّل طریقہ سے اس لیے بیان کیے ہیں تاکہ لوگ اس پر غور کریں اور اپنے رب پر ایمان لائیں۔ اور اس کے احکام پر عمل کریں اگر لوگ نیک نیتی کے ساتھ اپنے رب کی قدرتوں پر غور کریں گے تو ہدایت پاجائیں گے کیونکہ اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کو صراط مستقیم کی ہدایت نصیب کرتا ہے۔ جو اس کی قدرتوں پر غور کرتے ہیں ۔ پہلے بھی عرض ہوچکا ہے کہ ہدایت سب سے گراں قدر نعمت ہے۔ یہ اسے نصیب ہوتی ہے جو اس کی چاہت اور کوشش کرتا ہے قرآن مجید میں اسی لیے بار بار ارشاد ہوا ہے کہ اللہ تعالیٰ جسے چاہے ہدایت دیتا ہے اور جسے چاہے گمراہ رہنے دیتا ہے۔ مسائل: 1۔ اللہ تعالیٰ نے ہر جاندار کو پانی سے پیدا کیا۔ تفسیر بالقرآن: پانی کی اہمیّت : 1۔ اللہ نے پانی کے ذریعے پھلوں جیسا رزق عطا فرمایا : (البقرۃ:22) 2۔ پانی کے ذریعے ہی بنجر زمین زرخیز ہوتی ہے۔ ( النحل :65) 3۔ پانی طہارت کا ذریعہ ہے۔ ( النساء :63) 4۔ اللہ تعالیٰ نے تمام نباتات کو پانی کے ذریعے پیدا کیا۔ ( طٰہٰ:53) 5۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو پانی اور مٹی سے پیدا کیا۔ ( الطارق :6) 6۔ اللہ تعالیٰ نے آسمان سے برکت والا پانی نازل فرما کر اس کے ذریعے بہت سے باغات سرسبز وشاداب کر دئیے۔ ( ق :9)