سورة الأنبياء - آیت 11

وَكَمْ قَصَمْنَا مِن قَرْيَةٍ كَانَتْ ظَالِمَةً وَأَنشَأْنَا بَعْدَهَا قَوْمًا آخَرِينَ

ترجمہ مکہ - مولانا جوناگڑھی صاحب

اور بہت سی بستیاں ہم نے تباہ کردیں (١) جو ظالم تھیں اور ان کے بعد ہم نے دوسری قوم کو پیدا کردیا۔

تفسیر فہم القرآن - میاں محمد جمیل

فہم القرآن ربط کلام : جن لوگوں نے انبیائے کرام (علیہ السلام) پر الزام لگائے اور اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ کتاب کا انکار کیا ان کا انجام۔ اللہ تعالیٰ نے کتنی ہی بستیوں کو ہلاک کیا جن کے رہنے والے حقوق اللہ اور حقوق العباد کے بارے میں ظلم کرنے والے تھے۔ انھیں تباہ و برباد کرکے دوسری قوم کو پیدا فرمایا۔ قوموں کی تباہی اور دوسری اقوام کو لانے کے عمل کا ذکر کرتے ہوئے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے بارے میں جمع کی ضمیر (ہُمْ) استعمال فرمائی ہے۔ جس کا مقصد جلالت و جبروت کا اظہار کرنا ہے۔ چنانچہ جب ظالم لوگوں پر اللہ تعالیٰ نے اپنے غضب کا مظاہرہ کیا اور ظالموں کو یقین ہوگیا کہ اب ہمارا بچنا مشکل ہے تو وہ ادھر ادھر بھاگنے لگے۔ اللہ تعالیٰ نے وحی کے ذریعے انبیائے کرام (علیہ السلام) کو حکم فرمایا کہ انہیں کہو بھاگنے کی بجائے اپنے مال و دولت، عیش و عشرت اور محلات میں ٹھہرے رہو تاکہ تمھاری اچھی طرح پوچھ گچھ کی جا سکے۔ پوچھ گچھ سے مراد وہ عذاب ہے جس میں وہ مبتلا کیے گئے۔ گویا کہ انھیں ان کے مال و دولت سمیت تباہ کردیا گیا۔ جن محلات اور مکانات میں رہتے تھے وہی ان کے لیے قبرستان بن گئے۔ جب ان پر اللہ تعالیٰ کا عذاب نازل ہوا تو وہ اس بات کا اقرار کرتے رہے کہ ہم پر ظلم نہیں ہوا بلکہ ہم خود ہی اپنے آپ پر ظلم کرنے والے تھے۔ ان کے اقرار کے باوجود۔ اللہ تعالیٰ نے انھیں کٹی ہوئی کھیتی کی طرح ریزہ ریزہ کردیا جس میں زندگی کی کوئی رمق باقی نہ تھی۔ اس حالت میں ان کی کوئی مدد کرنے والا نہ تھا، باوجود اس کے وہ آہ وزاریاں کررہے تھے۔ مسائل ١۔ اللہ تعالیٰ کا عذاب جب کسی قوم پر نازل ہوتا تو انھیں بھاگنے کی مہلت نہیں ملتی۔ ٢۔ ہلاک ہونے والے لوگ اپنے جرائم کا اعتراف کیا کرتے تھے۔ ٣۔ جس قوم پر اللہ تعالیٰ کا عذاب نازل ہو تو وہ راکھ کے ڈھیر کی مانند ہوجاتی ہے۔ تفسیر بالقرآن ” اللہ“ کے عذاب کے وقت ظالموں کی حالت : ١۔ کیا وہ بے فکر ہیں کہ انہیں اللہ کا عذاب یا قیامت اچانک آلے اور انہیں معلوم بھی نہ ہو۔ (یوسف : ١٠٧) ٢۔ ہم نے ان کو اچانک پکڑ لیا اور وہ بے خبر تھے۔ ( الاعراف : ٩٥ ) ٣۔ ہم ان کے پاس اچانک عذاب لے آئیں گے اور انہیں معلوم نہ ہوگا۔ (العنکبوت : ٥٣ ) ٤۔ اللہ جب مصیبت نازل کرتا ہے تو اس کے ہٹنے کی کوئی صورت نہیں ہوتی اور نہ کوئی اسے بچانے والا ہوتا ہے۔ (الرعد : ١١) ٥۔ ” اللہ“ کے عذاب سے ظالموں کو کوئی بچانے والا نہیں ہوتا۔ (الرعد : ٣٤) ٦۔ ” اللہ“ نے ظالموں کو ان کے گناہوں کی وجہ سے پکڑلیا اور انہیں کوئی بچانے والا نہ تھا۔ ( المومن : ٢١) ٧۔ ” اللہ“ کے عذاب سے کوئی نہیں بچ سکتا مگر جس پر اللہ رحم فرمائے۔ (ہود : ٤٣) ٨۔ ” اللہ“ کی گرفت بہت سخت ہوا کرتی ہے۔ (البروج : ١٢)