سورة الرعد - آیت 17

أَنزَلَ مِنَ السَّمَاءِ مَاءً فَسَالَتْ أَوْدِيَةٌ بِقَدَرِهَا فَاحْتَمَلَ السَّيْلُ زَبَدًا رَّابِيًا ۚ وَمِمَّا يُوقِدُونَ عَلَيْهِ فِي النَّارِ ابْتِغَاءَ حِلْيَةٍ أَوْ مَتَاعٍ زَبَدٌ مِّثْلُهُ ۚ كَذَٰلِكَ يَضْرِبُ اللَّهُ الْحَقَّ وَالْبَاطِلَ ۚ فَأَمَّا الزَّبَدُ فَيَذْهَبُ جُفَاءً ۖ وَأَمَّا مَا يَنفَعُ النَّاسَ فَيَمْكُثُ فِي الْأَرْضِ ۚ كَذَٰلِكَ يَضْرِبُ اللَّهُ الْأَمْثَالَ

ترجمہ مکہ - مولانا جوناگڑھی صاحب

اسی نے آسمان سے پانی برسایا پھر اپنی اپنی وسعت کے مطابق نالے بہ نکلے پھر پانی کے ریلے نے اوپر چڑھی جھاگ کو اٹھا لیا (١) اور اس چیز میں بھی جس کو آگ میں ڈال کر تپاتے ہیں زیور یا سازو سامان کے لئے اسی طرح کی جھاگ ہیں (٢) اسی طرح اللہ تعالیٰ حق اور باطل کی مثال بیان فرماتا ہے (٣) اب جھاگ تو نکارہ ہو کر چلی جاتی ہے (٤) لیکن جو لوگوں کو نفع دینے والی چیز ہے۔ وہ زمین میں ٹھری رہتی ہے (٥) اللہ تعالیٰ اسی طرح مثالیں بیان فرماتا ہے (٦)۔

تفسیر فہم القرآن - میاں محمد جمیل

فہم القرآن ربط کلام : توحید اور شرک کے فرق کو سمجھنے کے لیے مزید دو مثالیں۔ دین اور اس کے مرکزی نقطہ یعنی توحید کی مثال آسمان سے بارش کی مانند ہے۔ جب موسلا دھار بارش برستی ہے تو ہر وادی اور ندی نالے اپنی اپنی وسعت وکشادگی کے مطابق اس سے سیر ہوتے ہیں۔ یہاں تک کہ ندی نالوں میں چلنے والا سیل رواں اپنے اوپر جھاگ اٹھائے ڈھلوان کی طرف رواں دواں ہوتا ہے۔ دیکھنے میں پانی کے بجائے جھاگ ہی جھاگ نظر آتی ہے لیکن کچھ وقت کے بعد جھاگ اپنا وجود کھو بیٹھتی ہے۔ بعض اوقات حق وباطل کی کشمکش توحید اور کفر و شرک کی آویزش میں ابتداءً یہی منظر آتا ہے جیسے باطل حق پر غالب آجائے گا۔ لیکن جب حق والے اپنے وسائل بروئے کار لاتے ہوئے پوری استقامت کے ساتھ جدوجہد کرتے ہیں تو اللہ تعالیٰ پانی کی جھاگ کی طرح کفر کو مٹا دیتا ہے۔ کیونکہ اس کا اعلان ہے کہ حق آچکا اور باطل بھاگ کھڑا ہوا باطل کا کام بھاگنے کے سوا کچھ نہیں ہوتا۔ (بنی اسرائیل۔ ٨١) اس ارشاد میں دوسری مثال توحید اور کفر و شرک کی کشمکش کو ایک کٹھالی کے ساتھ تشبیہ دیتے ہوئے فرمایا ہے کہ جس طرح کٹھالی میں سونا یا کوئی دھات رکھ کر اسے آگ دی جائے تو سونے سے اس کی ملاوٹ و کثافت الگ ہوجاتی ہے۔ خالص سونا پوری چمک دمک کے ساتھ باقی رہ جاتا ہے۔ اسی طرح حق وباطل کے معرکہ میں حق پر قائم رہنے اور اس کی خاطر قربانیاں دینے والے اللہ تعالیٰ کی نظر میں کندن بن جاتے ہیں اور ان کا کردار آنے والی نسلوں کے لیے تقویت کا باعث اور مشعل راہ ثابت ہوتا ہے۔ جس طرح سونے کی میل کچیل اور پانی کی جھاگ بے فائدہ اور فضول چیز ثابت ہوتی ہے۔ اسی طرح کفر و شرک کے لیے کوشش کرنے والوں کی محنت اور وسائل ضائع ہوجائیں گے۔ سونا زیب وزنیت کا باعث اور منافع بخش چیز ہے۔ پانی زمین میں جذب ہونے کی وجہ سے گل وگلزار اور اناج پیدا کرتا ہے۔ جس پر لوگوں کی زندگی کا انحصار پانی پر ہے۔ یہی مثال دین حق کی ہے کہ جس کے نفاذ سے ہر کسی کو فائدہ پہنچتا ہے۔ اس مثال سے یہ بھی ثابت ہوا کہ اصل چیز کو ہی بقا اور دوام حاصل ہوتا ہے۔ لہٰذا حق کو دوام اور باطل کے لیے فنا ہے۔ حق بات دنیا و آخرت میں مفید ہے اور باطل فضول اور ہمیشہ کے لیے نقصان دہ ہے۔ اللہ تعالیٰ یہ مثالیں اس لیے بیان فرماتا ہے تاکہ لوگ ان سے سبق حاصل کریں۔ مسائل ١۔ حق کے مقابلہ میں باطل کی کوئی حیثیت نہیں ہوتی۔ ٢۔ اللہ تعالیٰ لوگوں کے لیے مثالیں بیان کرتا ہے تاکہ لوگ حقیقت کو سمجھ جائیں۔ تفسیر بالقرآن حق و باطل میں فرق : ١۔ اللہ تعالیٰ حق و باطل کی مثالیں بیان کرتا ہے۔ (الرعد : ١٧) ٢۔ حق آگیا اور باطل بھاگ گیا، باطل کا کام ہی بھاگ جانا ہے۔ (بنی اسرائیل : ٨١) ٣۔ اللہ تعالیٰ باطل کو مٹاتا اور حق کو واضح کرتا ہے۔ (الشوریٰ : ٢٤) ٤۔ اللہ تعالیٰ حق کو حق اور باطل کو باطل کردیتا ہے اگرچہ مجرم ناپسند جانیں۔ (الانفال : ٨) ٥۔ حق کو باطل سے نہ ملائیں۔ (البقرۃ: ٤٢) ٦۔ اے اہل کتاب حق کو باطل کے ساتھ کیوں ملاتے ہو؟ (آل عمران : ٧١)