سورة التوبہ - آیت 58

وَمِنْهُم مَّن يَلْمِزُكَ فِي الصَّدَقَاتِ فَإِنْ أُعْطُوا مِنْهَا رَضُوا وَإِن لَّمْ يُعْطَوْا مِنْهَا إِذَا هُمْ يَسْخَطُونَ

ترجمہ مکہ - مولانا جوناگڑھی صاحب

ان میں وہ بھی ہیں جو خیراتی مال کی تقسیم کے بارے میں آپ پر عیب رکھتے ہیں (١) اگر انہیں اس میں مل جائے تو خوش ہیں اور اگر اس میں سے نہ ملا تو فوراً ہی بگڑ کھڑے ہوئے (٢)۔

تفسیر فہم القرآن - میاں محمد جمیل

فہم القرآن ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ۔ دنیا میں ذلیل ہونے کے باوجود مال کے بارے میں منافق کی حرص و ہوس کا حال۔ مدینہ کے منافقین چاروں طرف سے مایوس اور ہر سہارے سے بے سہارا ہونے کے باوجود دنیا کے مال میں اس قدر حریص تھے کہ جب بھی اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اللہ کے حکم اور اس کی حکمت کے مطابق مال غنیمت تقسیم فرمایا اور اس میں منافقوں کو مخلصین کے مقابلے میں کم حصہ دیا تو وہ اللہ کے رسول کی امانت و دیانت پر یقین رکھنے کے باوجود ہرزہ سرائی پر اتر آتے اور دیانت و امانت کے پیکر رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو الزام دیتے کہ یہ نبی غنائم کی تقسیم میں عدل و انصاف کا خیال نہیں رکھتا۔ حالانکہ ظالم کھلی آنکھوں کے ساتھ دیکھتے تھے کہ جب بھی مال غنیمت آتا تو رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سب کچھ تقسیم کرکے خالی ہاتھ اپنے گھر لوٹا کرتے تھے۔ منافقین کو ان کے مطالبہ کے مطابق مل جاتا تو بغلیں بجاتے ورنہ سخت ناراضگی کا اظہار اور منفی پروپیگنڈہ کرتے۔ ایسے لوگوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ اگر یہ اللہ اور اس کے رسول کی تقسیم اور منشا پر خوش ہوجاتے اور کہتے کہ ہمیں اللہ ہی کافی ہے عنقریب ہمارا اللہ اپنے فضل سے مزید عطا کرے گا جس سے اس کا رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہمیں خوش کر دے گا۔ لیکن منافقین نے مال کے حصول کو معیار بنا کر اللہ کے رسول کو ہدف تنقیدبنا لیا تھا یہاں فضل و کرم کی نسبت نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف کرنے کے بجائے اللہ تعالیٰ اپنی طرف کی ہے تاکہ آنے والے وقت میں کوئی شخص یہ عقیدہ اختیار نہ کرے کہ مشکلات کے حل اور فضل و کرم کی عطا کا اختیار اللہ کے رسول کو بھی حاصل ہے۔ اس لیے اس کی وضاحت کردی گئی ہے۔ فضل و کرم کا مالک اور حل المشکلات صرف اور صرف اللہ تعالیٰ ہے۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تو اللہ تعالیٰ کے دیے ہوئے مال میں سے دیا کرتے تھے۔ اسی تناظر میں آپ نے وضاحت فرمائی ہے۔ (عَنْ مُعَاوِیَۃَ قَالَ سَمِعْتُ النَّبِیَّ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یَقُولُ مَنْ یُّرِدْ اللّٰہُ بِہٖ خَیْرًا یُّفَقِّہْہُ فِی الدِّینِ وَإِنَّمَا أَنَا قَاسِمٌ وَاللّٰہُ یُعْطِی وَلَنْ تَزَالَ ہَذِہِ الْأُمَّۃُ قَاءِمَۃً عَلَی أَمْرِ اللّٰہِ لَا یَضُرُّہُمْ مَنْ خَالَفَہُمْ حَتّٰی یَأْتِیَ أَمْرُ اللّٰہِ) [ رواہ البخاری : کتاب العلم، باب من یرد اللہ بہ خیرا] ” حضرت معاویہ (رض) بیان کرتے ہیں میں نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنا آپ نے فرمایا اللہ تعالیٰ جس کے ساتھ بھلائی کا ارادہ کرتا ہے اسے دین کی سمجھ عنایت کرتا ہے میں تو صرف تقسیم کرنے والا ہوں اللہ تعالیٰ دیتا ہے یہ امت ہمیشہ دین حق پر رہے گی یہاں تک کہ قیامت آجائے گی۔ اس کی مخالفت کرنے والا اسے کوئی نقصان نہیں پہنچا سکے گا۔“ (عَن أَبِی سَعِیدِ الْخُدْرِیِّ (رض) یَقُولُ بَعَثَ عَلِیُّ بْنُ أَبِی طَالِبٍ (رض) إِلٰی رَسُول اللّٰہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مِنَ الْیَمَنِ بِذُہَیْبَۃٍ فِی أَدِیمٍ مَقْرُوظٍ لَمْ تُحَصَّلْ مِنْ تُرَابِہَا قَالَ فَقَسَمَہَا بَیْنَ أَرْبَعَۃِ نَفَرٍ بَیْنَ عُیَیْنَۃَ بْنِ بَدْرٍ وَأَقْرَعَ بْنِ حابِسٍ وَزَیْدِ الْخَیْلِ وَالرَّابِعُ إِمَّا عَلْقَمَۃُ وَإِمَّا عَامِرُ بْنُ الطُّفَیْلِ فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِہٖ کُنَّا نَحْنُ أَحَقَّ بِہَذَا مِنْ ہٰؤُلَاءِ قَالَ فَبَلَغَ ذَلِکَ النَّبِیَّ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فَقَالَ أَلَا تَأْمَنُونِی وَأَنَا أَمِینُ مَنْ فِی السَّمَاءِ یَأْتِینِی خَبَرُ السَّمَاءِ صَبَاحًا وَّمَسَاءً قَالَ فَقَامَ رَجُلٌ غَاءِرُ الْعَیْنَیْنِ مُشْرِفُ الْوَجْنَتَیْنِ نَاشِزُ الْجَبْہَۃِ کَثُّ اللِّحْیَۃِ مَحْلُوق الرَّأْسِ مُشَمَّرُ الْإِزَارِ فَقَالَ یَا رَسُول اللّٰہِ اتَّقِ اللّٰہَ قَالَ وَیْلَکَ أَوَلَسْتُ أَحَقَّ أَہْلِ الْأَرْضِ أَنْ یَتَّقِیَ اللّٰہَ قَالَ ثُمَّ وَلَّی الرَّجُلُ قَالَ خَالِدُ بْنُ الْوَلِیدِ یَا رَسُول اللّٰہِ أَلَا أَضْرِبُ عُنُقَہٗ قَالَ لَا لَعَلَّہُ أَنْ یَکُونَ یُصَلِّی فَقَالَ خَالِدٌ وَکَمْ مِنْ مُّصَلٍّ یَقُولُ بِلِسَانِہٖ مَا لَیْسَ فِی قَلْبِہٖ قَالَ رَسُول اللّٰہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) إِنِّی لَمْ أُومَرْ أَنْ أَنْقُبَ عَنْ قُلُوب النَّاسِ وَلَا أَشُقَّ بُطُونَہُمْ قَالَ ثُمَّ نَظَرَ إِلَیْہِ وَہُوَ مُقَفٍّ فَقَالَ إِنَّہٗ یَخْرُجُ مِنْ ضِءْضِءِ ہَذَا قَوْمٌ یَتْلُونَ کِتَاب اللّٰہِ رَطْبًا لَا یُجَاوِزُ حَنَاجِرَہُمْ یَمْرُقُونَ مِنَ الدِّینِ کَمَا یَمْرُقُ السَّہْمُ مِنَ الرَّمِیَّۃِ وَأَظُنُّہٗ قَالَ لَءِنْ أَدْرَکْتُہُمْ لَأَقْتُلَنَّہُمْ قَتْلَ ثَمُودَ) [ رواہ البخاری : کتاب المغازی، باب بعث علی بن أبی طالب] ” حضرت ابو سعید خدری (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت علی (رض) نے رنگے ہوئے چمڑے میں کچھ سونا، جس سے مٹی علیحدہ نہیں کی گئی تھی یمن سے رسول مکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں بھیجا۔ آپ نے اسے چار آدمیوں عیینہ بن بدر، اقرع بن حابس، زید الخیل اور علقمہ یا عامر بن طفیل (رض) کے درمیان تقسیم کردیا۔ آپ کے اصحاب میں سے کسی نے کہا اس مال کے تو ہم ان لوگوں سے زیادہ حقدار ہیں آپ کو جب یہ بات معلوم ہوئی تو آپ نے فرمایا کیا تم لوگوں کو مجھ پر اطمینان نہیں حالانکہ میں آسمان والے کا امین ہوں۔ میرے پاس صبح و شام آسمان کی خبریں آتی ہیں ایک آدمی جس کی آنکھیں دھنسی ہوئی، رخساروں کی ہڈیاں ابھری ہوئی، پیشانی باہر نکلی ہوئی، ڈاڑھی گھنی اور سرمنڈا ہوا تھا۔ اپنا تہبند پنڈلیوں سے اٹھاتے ہوئے کھڑا ہو کر کہنے لگا اللہ کے رسول! اللہ سے ڈریے۔ آپ نے فرمایا تیرا ستیاناس ہو۔ کیا میں روئے زمین پر اللہ سے سب سے زیادہ ڈرنے والا نہیں ہوں ؟ وہ آدمی چلا گیا تو خالد بن ولید (رض) نے عرض کیا اے اللہ کے رسول! میں اس کی گردن نہ اڑادوں ؟ آپ نے فرمایا نہیں شاید وہ نماز پڑھتا ہو۔ خالد (رض) کہنے لگے کتنے ہی نمازی ہیں جو زبان سے اچھی باتیں کہتے ہیں جو ان کے دل میں نہیں ہوتیں۔ آپ نے فرمایا مجھے لوگوں کے دلوں میں نقب لگانے اور ان کے پیٹوں کو چاک کرنے کا حکم نہیں دیا گیا۔ ابو سعید (رض) کہتے ہیں کہ جب وہ پیٹھ موڑے جا رہا تھا تو آپ نے فرمایا اس کی نسل سے وہ لوگ پیدا ہوں گے جو قرآن کو مزے لے کر پڑھیں گے مگر وہ ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گا۔ دین سے اس طرح نکل جائیں گے جیسے تیر کمان سے نکل جاتا ہے۔ ابو سعید (رض) کہتے ہیں میرا خیال ہے آپ نے یہ بھی فرمایا کہ اگر میں اس قوم کے زمانہ میں موجود رہا تو قوم ثمود کی طرح انھیں ہلاک کر دوں گا۔“ (عن عَمْرو بن تَغْلِبَ (رض) أَنَّ رَسُول اللّٰہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) أُتِیَ بِمَالٍ أَوْ سَبْیٍ فَقَسَمَہٗ فَأَعْطَی رِجَالًا وَتَرَکَ رِجَالًا فَبَلَغَہٗ أَنَّ الَّذِینَ تَرَکَ عَتَبُوا فَحَمِدَ اللّٰہَ ثُمَّ أَثْنَی عَلَیْہِ ثُمَّ قَالَ أَمَّا بَعْدُ فَوَاللّٰہِ إِنِّی لَأُعْطِی الرَّجُلَ وَأَدَعُ الرَّجُلَ وَالَّذِی أَدَعُ أَحَبُّ إِلَیَّ مِنَ الَّذِی أُعْطِی وَلٰکِنْ أُعْطِی أَقْوَامًا لِمَا أَرٰی فِی قُلُوبِہِمْ مِنَ الْجَزَعِ وَالْہَلَعِ وَأَکِلُ أَقْوَامًا إِلٰی مَا جَعَلَ اللّٰہُ فِی قُلُوبِہِمْ مِنَ الْغِنٰی وَالْخَیْرِ فیہِمْ عَمْرُو بْنُ تَغْلِبَ فَوَاللّٰہِ مَا أُحِبُّ أَنَّ لِی بِکَلِمَۃِ رَسُول اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ حُمْرَ النَّعَمِ) [ رواہ البخاری : کتاب الجمعۃ، باب خطبۃ الجمعۃ] ” عمرو بن تغلب (رض) کہتے ہیں کہ ایک دفعہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس کچھ مال یا قیدی آئے۔ آپ نے اسے تقسیم کردیا۔ کسی کو آپ نے دیا اور کسی کو نہ دیا۔ آپ تک یہ بات پہنچی کہ جنھیں نہیں دیا گیا وہ ناراض ہیں۔ چنانچہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے خطبہ میں اللہ کی حمد و ثنا بیان کرنے کے بعد فرمایا میں بعض لوگوں کو دیتا ہوں اور بعض کو نہیں دیتا۔ جنھیں میں دیتا ہوں وہ اس لیے نہیں دیتا کہ مجھے زیادہ محبوب ہیں بلکہ اس لیے دیتا ہوں کہ میں ان میں بے چینی اور بوکھلا ہٹ پاتا ہوں اور جنھیں نہیں دیتا ان کی سیر چشمی اور بھلائی پر بھروسہ کرتا ہوں جو اللہ نے انھیں دے رکھی ہے ایسے لوگوں میں سے ایک عمرو بن تغلب ہے۔ آپ کے منہ سے یہ بات سن کر مجھے اتنی خوشی ہوئی کہ اگر مجھے سرخ اونٹ بھی مل جاتے تو اتنی خوشی نہ ہوتی۔“ مسائل ١۔ منافق مال ودولت کا بہت حریص ہوتا ہے۔ ٢۔ منافق کے دل میں للہیت کے بجائے دنیاکا مفاد ہوتا ہے۔ ٣۔ منافق کو اگر مفادات ملتے رہیں تو راضی رہتا ہے اگر نہ ملیں تو ناراض ہوجاتا ہے۔