سورة الزمر - آیت 49
فَإِذَا مَسَّ الْإِنسَانَ ضُرٌّ دَعَانَا ثُمَّ إِذَا خَوَّلْنَاهُ نِعْمَةً مِّنَّا قَالَ إِنَّمَا أُوتِيتُهُ عَلَىٰ عِلْمٍ ۚ بَلْ هِيَ فِتْنَةٌ وَلَٰكِنَّ أَكْثَرَهُمْ لَا يَعْلَمُونَ
ترجمہ جوناگڑھی - محمد جونا گڑھی
انسان کو جب کوئی تکلیف پہنچتی ہے (١) تو ہمیں پکارنے لگتا ہے پھر جب ہم اسے اپنی طرف سے کوئی نعمت عطا فرما دیں تو کہنے لگتا ہے (٢) کہ اسے تو میں محض اپنے علم کی وجہ سے دیا گیا ہوں (٣) بلکہ یہ آزمائش ہے لیکن ان میں سے اکثر لوگ بے علم ہیں۔ (٤)
تفسیر اشرف الہواشی - محمد عبدہ لفلاح
ف 3 یا ” اس نعمت کے ملنے کا مجھے پہلے سے علم تھا“۔ یا ” اللہ کوعلم تھا کہ میں اس نعمت کا مستحق ہوں“۔ ف 4 کہ آیا وہ اسے پا کر شکر بجا لاتا ہے یا نا شکری پر اتر آتا ہے۔ ف 5” کہ انہیں جو دولت اور نعمت ملی ہے اس سے اللہ تعالیٰ ان کا امتحان لینا چاہتا ہے“