سورة یوسف - آیت 90

قَالُوا أَإِنَّكَ لَأَنتَ يُوسُفُ ۖ قَالَ أَنَا يُوسُفُ وَهَٰذَا أَخِي ۖ قَدْ مَنَّ اللَّهُ عَلَيْنَا ۖ إِنَّهُ مَن يَتَّقِ وَيَصْبِرْ فَإِنَّ اللَّهَ لَا يُضِيعُ أَجْرَ الْمُحْسِنِينَ

ترجمہ مکہ - مولانا جوناگڑھی صاحب

انہوں نے کہا کیا (واقعی) تو ہی یوسف (علیہ السلام) ہے (١) جواب دیا کہ ہاں میں یوسف (علیہ السلام) ہوں اور یہ میرا بھائی ہے اللہ نے ہم پر فضل و کرم کیا بات یہ ہے کہ جو بھی پرہیزگاری اور صبر کرے تو اللہ تعالیٰ کسی نیکوکار کا اجر ضائع نہیں کرتا (٢)۔

تفسیر اشرف الحواشی - محمد عبدہ الفلاح

ف 1۔ جو مصیبت سے نجات دے کر دونوں کو ملا دیا اور اس بلند مرتبہ پر پہنچا دیا، جسے تم اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہوَ (روح) ف 2۔ یعنی گناہوں سے بچتا رہے اور لوگوں کو ایذا سانی پر صبر کرتا رہے۔ ف 3۔ شاہ صاحب (رح) لکھتے ہیں۔ جس پر تکلیف پڑے اور وہ شرع سے باہر نہ ہو اور گھبراوے نہیں تو آخر بلا سے زیادہ عطا ہے۔