سورة الاعراف - آیت 82

وَمَا كَانَ جَوَابَ قَوْمِهِ إِلَّا أَن قَالُوا أَخْرِجُوهُم مِّن قَرْيَتِكُمْ ۖ إِنَّهُمْ أُنَاسٌ يَتَطَهَّرُونَ

ترجمہ مکہ - مولانا جوناگڑھی صاحب

اور ان کی قوم سے کوئی جواب نہ بن پڑا بجز اس کے آپس میں کہنے لگے کہ ان لوگوں کو اپنی بستی سے نکال دو۔ یہ لوگ بڑے پاک صاف بنتے ہیں (١)۔

تفسیر اشرف الحواشی - محمد عبدہ الفلاح

ف 8 اہل سدو کو اس لحاظ سے حضرت لو ط ( علیہ السلام) کی قوم کہا گیا ہے کہ وہ ان کی طرف مبعوث تھے یہ یا شایدان کا ان سے سسرال کا رشتہ ہوگا۔ ف 1 یعنی ہم گنہگار ناپاک لوگوں میں ان کا کیا کام۔ یہ بات انہوں نے طنزا یا مسخرے پن سے کہی۔ ( رازی )