سورة الانعام - آیت 73

وَهُوَ الَّذِي خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ بِالْحَقِّ ۖ وَيَوْمَ يَقُولُ كُن فَيَكُونُ ۚ قَوْلُهُ الْحَقُّ ۚ وَلَهُ الْمُلْكُ يَوْمَ يُنفَخُ فِي الصُّورِ ۚ عَالِمُ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ ۚ وَهُوَ الْحَكِيمُ الْخَبِيرُ

ترجمہ فہم القرآن - میاں محمد جمیل

اور وہی ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو حق کے ساتھ پیدا کیا اور جس دن فرمائے گا ” ہوجا“ تو وہ ہوجائے گا اس کا فرمان ہی سچا ہے اور اسی کی بادشاہی ہے۔ جس دن صور میں پھونکا جائے گا غیب اور حاضر کو جاننے والا ہے اور وہی کمال حکمت والا، پوری خبر رکھنے والاہے۔“ (٧٣)

تفسیر تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

(68) جس باری تعالیٰ نے ہمیں حکم دیا ہے کہ اس کے سامنے سر تسلیم خم کریں، اسی نے آسمانوں اور زمین کو عدل وحکمت کے ساتھ پیدا کیا ہے، وہی ان دونوں کا اور ان میں موجود تمام مخلوقات کا مالک و مدبر ہے، اور قیامت کے دن انہیں میدان حشر میں کلہ "کن :" کے ذریعے جمع کرنے پر قادرہے، اس کی مراد اور خواہش اس کے امر اور حکم سے مؤخر نہیں ہو سکتی، اس کا قول وحکم بہراحال نافذ اور واقع ہے، علماء تفسیر نے لکھا ہے کہ " کے بعد اس آیت کو لانے سے مقصود اس بات پر دلیل قائم کرنا ہے کہ اللہ تعالیٰ بعث بعد الموت پر قادر ہے، اور ان مشرکین کی تردید کرنی ہے جو اس کے منکر ہیں، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے سورۃ یاسین آیات (18/82) میں فرمایا ہے : کہ وہ ذات جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا ہے، کہا اس پر قادر نہیں ہے کہ ان کے جیسا پیدا کرے؟ ہاں، وہ قادر ہے، اور وہ بڑا پیدا کرنے والال ہے وہ جب کبھی کسی چیز کا ارادہ کرتا ہے، اس کے لیے اتنا کہہ دینا کافی ہوتا ہے کہ ہوجا، وہ چیز اسی وقت ہوجاتی ہے :۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے فرمایا جس دن قیامت کا صور پھو نکا جائے گا، اس دن اسی کی بادشاہت ہوگی، اور اپنے مطیع وفرنبردار اور عاصی و گناہ گار بندوں کے ساتھ ان کے اعمال کے مطابق بر تاؤ کرے گا، اور"صور" سے مراد وہ چیز ہے جس میں اسرافیل (علیہ السلام) پھونک ماریں گے جیسا کہ مسند احمد میں ابو سعید خدری (رض) سے مروی ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کرتے تھے ،"میں آرام کیسے محسوس کروں، جبکہ صوروالے (فرشتے) نے صور منہ میں لیا ہے ہے، اور پیشانی جھکائی ہوئی ہے، اور انتظار میں ہے کہ کب اسے حکم ملے کہ اس میں پھونک مارے۔"مسند اح‏د میں عبد اللہ بن عمرو (رض) سے روایت ہے کہ ایک دیہاتی نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سے صور کے بارے میں پوچھا تو آپ نے فرمایا : وہ ایک سینگ ہے جس میں پھونک مارا جائے گا "اس حدیث کو ابوداؤد، ترمذی اور حاکم نے بھی روایت کی ہے۔