سورة المآئدہ - آیت 76

قُلْ أَتَعْبُدُونَ مِن دُونِ اللَّهِ مَا لَا يَمْلِكُ لَكُمْ ضَرًّا وَلَا نَفْعًا ۚ وَاللَّهُ هُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ

ترجمہ فہم القرآن - میاں محمد جمیل

” فرمادیں کیا تم اللہ کے سوا اس کی عبادت کرتے ہو جو تمہارے لیے نہ کسی نقصان کا مالک ہے اور نہ نفع کا اور اللہ ہی سب کچھ سننے والا سب کچھ جاننے والا ہے۔ (٧٦)

تفسیر تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

103۔ یہ عقیدہ نصاری کے بطلان کی ایک دوسری دلیل ہے۔ آیت میں ما اسم موصول ہے، جس سے مراد عیسیٰ اور ام عیسیٰ ہیں کہ یہ دونوں نہ کچھ نفع پہنچا سکتے ہیں نہ نقصان، سب کچھ کا اختیار صرف اللہ کو حاصل ہے۔ اگر مخلوق کو کوئی قدرت حاصل ہے تو اللہ کی دی ہوئی ہے، اس لیے عیسیٰ اور ام عیسیٰ بھی کسی چیز کے مالک نہیں ہیں۔ اور اسی حقیقت کو واضح کرنے کے لیے قرآن میں من کے بجائے ما استعمال کیا گیا ہے جو غیر ذی روح کے لیے استعمال ہوتا ہے، یعنی ان دونوں کی حیثیت دیگر تمام اشیاء کی مانند ہے جن کے اندر کوئی قدرت نہیں ہوتی ہے۔ صاحب فتح البیان نے لکھا ہے کہ جب عیسیٰ (علیہ السلام) کی یہ حیثیت تھی (جو نبی تھے) تو اولیاء کی کیا حیثیت ہوسکتی ہے ظاہر ہے