سورة النسآء - آیت 138

بَشِّرِ الْمُنَافِقِينَ بِأَنَّ لَهُمْ عَذَابًا أَلِيمًا

ترجمہ فہم القرآن - میاں محمد جمیل

منافقوں کو خوشخبری دیجئے کہ بلا شبہ ان کے لیے دردناک عذاب ہے

تفسیر تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

132۔ آیات 138، 139 میں انہی منافقین کا انجام بتایا گیا ہے کہ قیامت کے دن ان کے لیے دردناک عذاب ہوگا، اس لیے کہ انہوں نے مومنوں کے بجائے کافروں کو اپنا دوست بنا لیا۔ اس کے بعد اللہ نے فرمایا کہ کیا کافروں کی دوستی سے ان کا مقصد قوت و غلبہ حاصل کرنا ہے؟ تو یہ ان کی خام خیالی ہے، اس لیے کہ عزت و وقوت کا مالک تو صرف اللہ ہے، وہ جسے چاہتا ہے عزت اور کامیابی عطا کرتا ہے، کفار اللہ کی مرضی کے بغیر ان کی کیا مدد کرسکتے ہیں۔ حافظ ابن کثیر لکھتے ہیں کہ اس آیت سے مقصود لوگوں کو اس بات پر ابھارنا ہے کہ وہ صرف اللہ کے بندگانِ عاجز بن کر رہیں، اور اسی کی جناب میں عزت تلاش کریں۔