سورة البينة - آیت 1

لَمْ يَكُنِ الَّذِينَ كَفَرُوا مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ وَالْمُشْرِكِينَ مُنفَكِّينَ حَتَّىٰ تَأْتِيَهُمُ الْبَيِّنَةُ

ترجمہ فہم القرآن - میاں محمد جمیل

اہل کتاب اور مشرکین میں سے جو لوگ کافر تھے وہ باز آنے والے نہ تھے جب تک کہ ان کے پاس روشن دلیل نہ آ جائے

تفسیر تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

(١) اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے خبر دی ہے کہ یہود و نصاری اور بتوں کے پجاری کفر و ضلالت کی وادیوں میں بھٹکتے رہے۔ اور مردر زمانہ کے ساتھ انکا کفر بڑھتا ہی گیا، یہاں تک کہ اللہ کی طرف سے دلیل واضح اور برہان ساطع آگیا، یعنی نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بحیثیت نبی و رسول مبعوث ہوئے اور ان پر اللہ کی کتاب نازل ہوئی تب انہوں نے حق کو پہچانا اور ان میں سے کچھ لوگ اسلام میں داخل ہوئے اور کچھ کفر پر ہی باقی رہے یہاں تک کہ ان کی موت آگئی، آیت (٢) میں ” رسول“ سے مراد نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور (صحفا مطھرۃ) سے مراد قرآن کریم ہے اور آیت (٣) میں (کتب قیمۃ) سے مراد قرآن کریم میں موجود سچی خبریں، اللہ کی نشانیاں اس کے احکام اور اوامرونواہی ہیں۔