سورة القدر - آیت 1

إِنَّا أَنزَلْنَاهُ فِي لَيْلَةِ الْقَدْرِ

ترجمہ فہم القرآن - میاں محمد جمیل

ہم نے اس قرآن کو شب قدر میں نازل کیا ہے

تفسیر تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

(١) اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے خبر دی ہے کہ اس نے قرآن کو ایک باعزت اور خیر و برکت والی رات میں نازل کیا ہے، پورا قرآن لیلتہ القدر میں لوح محفوظ سے آسمان دنیا پر نازل ہا پھر وہاں سے جستہ جستہ حسب ضرورت نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر نازل ہوتا رہا اور 23 سال میں اس کے نزول کی تکمیل ہوگئی۔ ان آیات میں قرآن کریم کی بہت بڑی فضیلت بیان کی گئی ہے، جس کی تعبیر ان الفاظ میں کی گئی ہے کہ ہم نے قرآن کی عظمت و اہمیت کے پیش نظر اسے ایک نہایت ہی معظم و مکرم اور بابرکت رات میں نازل کیا ہے۔ اسی مضمون کو اللہ تعالیٰ نے سورۃ خان آیت (٣) میں یوں بیان فرمایا ہے : (انا انزلناہ فی لیلۃ مبارکۃ انا کنا منذرین) ” بے شک ہم نے قرآن کو ایک بابرکت رات میں نازل کیا ہے، بے شک ہم ڈرانے والے تھے“ اور یہ رات ماہ رمضان میں تھی، جس کی تصریح اللہ تعالیٰ نے سورۃ البقرہ آیت (٥٨١) میں فرما دی ہے : (شھر رمضان الذی انزل فیہ القرآن) ” رمضان کا مہینہ وہ ہے جس میں قرآن نازل کیا گیا“