سورة الضحى - آیت 6

أَلَمْ يَجِدْكَ يَتِيمًا فَآوَىٰ

ترجمہ فہم القرآن - میاں محمد جمیل

کیا اس نے آپ کو یتیم نہیں پایا اور پھر ٹھکانا دیا؟

تفسیر تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

(٢) یہاں اللہ تعالیٰ نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر اپنے تین احسانات کا ذکر فرمایا، تاکہ آپ کو یقین ہوجائے کہ آپ کا رب آپ کے ساتھ ہے، نہ اس نے ماضی میں آپ کو چھوڑ دیا تھا اور نہ مستقبل میں کبھی چھوڑے گا اور تاکہ مشرکین جان لیں کہ آپ کا رب ہر دم آپ کے ساتھ ہے اور ان کی شمانت اور خوش ہونے کا کوئی معنی نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ آپ کو آپ کے رب نے یتیم پایا تو آپ کو پناہ دی، آپ کے والد (عبداللہ) کا انتقال اس وقت ہوگیا تھا جب آپ اپنی ماں کے پیٹ میں چھ ماہ کے تھے جب آپ چھ سال کے تھے تو والدہ بھی دنیا سے رخصت ہوگئیں تو اللہ تعالیٰ نے آپ کے چچا ابوطالب کے دل میں آپ کی محبت ڈال دی، انہوں نے آپ کی دیکھ بھال کی اور ہر طرح خیال رکھا یہاں تک آپ بڑے ہوگئے اور نبی ہونے کے بعد جب آپ نے اپنی دعوت اہل مکہ کے سامنے پیش کی اور انہوں نے آپ کو اذیت پہچانی شروع کی تو ابوطالب نے جان و مال کی ذریعہ آپ کا ساتھ دیا۔ اور آپ کو آپ کے رب نے رشد و ہدایت سے غافل پایا تو آپ کی رہنمائی کی اور دنیا والوں کے لئے آپ کو امام بنا دیا آپ بھی دیگر اہل مکہ کی طرح علم شریعت سے آگاہ نہیں تھے اور ایمان و اسلام کی کوئی بات نہیں جانتے تھے (اگرچہ آپ نے کبھی کسی گناہ کا ارتکاب نہیں کیا تھا) جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے سورۃ الشوریٰ آیت (٢٥) میں فرمایا ہے : (ماکنت تدری ما الکتاب ولا ایمان) ” آپ نہیں جانتے تھے کہ کتاب کیا ہے اور نہ ایمان کی کوئی بات جانتے تھے“ تو اللہ تعالیٰ نے آپ کو اپنا رسول بنا لیا اور اپنی پیغامبری کے لئے آپ کو چن لیا۔ اور آپ کو آپ کے رب نے محتاجی و فقیر پایا، تو آپ کی محتاجی دور کردی آپ کے والد کا ترکہ (ام ایمن) باندی اور چند اونٹوں کے سوا کچھ بھی نہ تھا، اللہ نے آپ کو قناعت دی چنانچہ آپ نے کبھی کسی کے سامنے ہاتھ نہیں پھیلایا اور جب بڑے ہوئے تو اللہ نے آپ کی شادی خدیجہ (رض) سے کرا دی جنہوں نے اپنی ساری دولت آپ کے قدموں میں رکھ دی اور جب نبی ہوئے اور مدنی زندگی میں فتوحات کا سلسلہ شروع ہوا تو اموال غنائم، زکاۃ و خراج اور اموال جزیہ کے ذریعہ اللہ نے آپ کی اور آپ کے صحابہ کی غربت و محتاجی دور کردی ہے۔