سورة البروج - آیت 12

إِنَّ بَطْشَ رَبِّكَ لَشَدِيدٌ

ترجمہ فہم القرآن - میاں محمد جمیل

بلاشبہ آپ کے رب کی پکڑ بڑی سخت ہے

تفسیر تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

(٤) اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو مخاطب کر کے فرمایا ہے کہ ظالموں اور سرکشوں کے لئے آپ کے رب کی گرفت بہت ہی سخت ہوتی ہے مفسر ابوالعسود کہتے ہیں، اس میں اشارہ ہے کہ جو مشرکین قریش نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور صحابہ کرام کو اذیت پہنچانے میں پیش پیش ہیں، اللہ تعالیٰ ان کی شدیدگرفت کرے گا، اس لئے کہ ان جیسے ظالموں کو اللہ بڑا ہی شدید عذاب دیتا ہے، جیسا کہ سورۃ ہود آیت (١٠٢) میں آیا ہے : (وکذلک اخذ ربک اذا اخذ القری وہی ظالمۃ ان اخذہ الیم شدید) ” آپ کے رب کی گرفت ایسی ہی ہوتی ہے جب وہ ان بستیوں والوں کی گرفت کرتا ہے جن کے رہنے والے ظلم کرنیلگتے ہیں بے شک اس کی گرفت درد ناک اور شدید ہوتی ہے۔ “ اللہ تعالیٰ نے آگے فرمایا کہ اس کے لئے ظالموں کی گرفتک رنا کوئی بڑی بات نہیں، اس لئے کہ وہ بے پایاں قدرت کا مالک ہے، وہ جب بھی کوئی چیز چاہتا ہے، پلک جھپکتے وہ چیز وجود میں آجاتی ہے اس کی قدرت بے پایاں کا مظہر یہ بھی ہے کہ ہو یہ چیز کو پہلی بار پیدا کرنے پر قادر ہے اور اس کے ہلاک ہونے کے بعد ہو جب چاہے گا اسے دوبارہ وجود میں لے آئے گا، کوئی چیز اس کی مشیت کی راہ میں حائل نہیں ہو سکتی۔ اور وہی اپنے بندوں کے گناہوں کو معاف کرنے والا ہے اس کے سوا کوئی گناہوں کو معاف نہیں کرسکتا، اور وہ اپنے مخلص و محب بندوں سے بڑی محبت کرنے والا ہے اور وہ عرش پر مستوی شہنشاہ دو جاں ہے اور وہ عظمت و کبریائی والا ہے اور وہ مالک دوسرا جو چاہتا ہے کرتا ہے کوئی نہیں جو اس کی مرضی کی راہ میں حائل ہو، اس لئے وہ جب چاہتا ہے کافروں اور سرکشوں کو ہلاک کردیتا ہے اور اپنے مخلص بندوں کی مدد کرتا ہے۔