سورة المطففين - آیت 34

فَالْيَوْمَ الَّذِينَ آمَنُوا مِنَ الْكُفَّارِ يَضْحَكُونَ

ترجمہ فہم القرآن - میاں محمد جمیل

آج ایمان لانے والے کفار پر ہنس رہے ہیں

تفسیر تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

(١١) اللہ تعالیٰ نے فرمایا : دنیا میں مومنوں کا مذاق اڑانے کا، قیامت کے دن کافروں اور مجرموں کو یہ بدلہ ملے گا کہ مومنین ان کی ذلت و رسوائی دیکھ کر خوش ہوں گے اور گاؤ تکیوں پر بیٹھے اپنے رب کی دی ہوئی نعمتوں کو دیکھ رہے ہوں گے اور اس عذاب جہنم کو بھی دیکھ رہے ہوں گے جس میں مجرمین مبتلا ہوں گے، تب رب ذوالجلال مومنوں کو مخاطب کر کے کہے گا : کیا ابتم نے دیکھ لیا کہ ہم نے کافروں کو ان کے کفر و ظلم اور ان کے دیگر برے اعمال کا کیسا بدلہ دیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے سورۃ المومنون آیات (١٠٨/١٠٩/١٠٠/١١١) میں اسی مضمون کو یوں بیان فرمایا ہے : (قال اخسوا فیھا ولاتکلمون، انہ کان فریق من عبادی یقولون ربنا امنافا غفرلنا وارحمنا وانت خیر الراحمین، فاتخذتموھم سخریا حتی انسوکم ذکری وکنتم منھم تضحکون، انی جزیتھم الیوم بما صبروا انھم ھم الفائزون) ” اللہ تعالیٰ (جہنمیوں سے) کہے گا، تم سب پھٹکا رے ہوئے یہیں پڑے رہو، اور مجھ سے بات نہ کرو میرے بندوں کی ایک جماعت تھی جو برابر یہی کہتی رہی کہ اے ہمارے پروردگار ! ہم ایمان لا چکے ہیں، تو ہمیں بخش دے اور ہم پر رحم فرما، تو سب مہربانوں سے زیادہ مہربان ہے، لیکن تم ان کا مذاق ہی اڑاتے رہے، یہاں تک کہ (اس مشغلے نے) تمہارے دل سے میری یاد بھی بھلا دی اور تم ان سے مذاق ہی کرتے رہے، میں نے آج انہیں ان کے اس صبر کا بدلہ دے دیا ہے کہ وہ اپنی مراد (جنت) کے حصول میں کامیاب ہوچکے ہیں“