سورة المطففين - آیت 14

كَلَّا ۖ بَلْ ۜ رَانَ عَلَىٰ قُلُوبِهِم مَّا كَانُوا يَكْسِبُونَ

ترجمہ فہم القرآن - میاں محمد جمیل

ایسا ہرگز نہیں بلکہ حقیقت یہ ہے کہ ان کے دلوں پر ان کے گناہوں کا زنگ چڑھ گیا ہے

تفسیر تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

(٤) یہاں لفظ ” کلا“ اس زعم باطل کیتردید کے لئے ہے کہ قرآن کریم گزشتہ قوموں کے قصے اور واقعات ہیں، کہا گیا کہ یہ تو اللہ کی برحق اور کھلی کتاب ہے جس پر ایمان لانا اور اس پر عمل کرنا روحانی امراض کے لئے شافی ہے۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ کفر و معاصی نے ان کے دلوں پر پردہ ال دیا ہے جس کے بب وہ معرفت حق سے محروم ہوگئے ہیں اور اللہ کی کتاب عظیم کے بارے میں ایسی غلط بات اپنی زبان پر لاتے ہیں اور ان کے کفر ومعاصی کی ایک دوسری سزا انہیں یہ ملے گی کہ وہ قیامت کے دن اپنے رب کی دید سے محروم کر دیئیجائیں گے۔ سورۃ القیامہ آیات (٢٢/٢٣) میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے : (وجوہ یومئذنا ضرۃ، الی ربھا ناظرۃ) ” اس روز بہت سے چہرے تروت ازہ اور بارونق ہوں گے اپنے رب کی طرف دیکھیت ہوں گے“ معلوم ہوا کہ مومنین اپنے رب کو دیکھیں گے اور کفار اس نعمت سے محروم کردیئے جائیں گے، بعض لوگوں نے اس کی تفسیر یہ بیان کی ہے کہ اس سے مقصود ان کی ذلت و رسوائی کی مثال بیان کرنی ہے، اس آدمی کے مانند جسے بطور اہانت بادشاہ کے دربار میں جانے سے روک دیا جاتا ہے قتادہ اور ابن ابی ملیکہ نے یہ تفسیر بیان کی ہے کہ اللہ تعالیٰ انہیں گناہوں سے پاک نہیں کرے گا اور ان پر نظر رحمت نہیں ڈالے گا، مجاہد کا قول ہے کہ وہ لوگ اللہ تعالیٰ کے اعزاز و اکرام سے یکسر محروم کردیئے جائیں گے۔