سورة النازعات - آیت 27

أَأَنتُمْ أَشَدُّ خَلْقًا أَمِ السَّمَاءُ ۚ بَنَاهَا

ترجمہ فہم القرآن - میاں محمد جمیل

کیا تمہیں پیدا کرنا مشکل کام ہے یا آسمان کو پیدا کرنا مشکل ہے ؟ جسے اللہ نے بنایا

تفسیر تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

(٩) یہاں خطاب قریش کے ان لوگوں سے ہے جو بعث بعد الموت کو نہیں مانتیت ھے، کہ جو قادر مطلق آسمانوں اور زمین کی تخلیق پر قادر ہے، جس نے رات اور دن بنائے ہیں، زمین سے پانی کے چشمے جاری کئے ہیں، نباتات پیدا کئے ہیں اور پہاڑوں کو زمین پر جمایا ہے، اس کے لئے تمہیں اور تم جیسوں کو دوبارہ پیدا کرنا بہت ہی آسان ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اے نبی نوع انسان ! تمہاری تخلیق بڑی بات ہے، یا عظیم وقی اور بلند و بالا آسمان کی، جسے اللہ نے بنایا ہے، اسے اونچا اٹھایا ہے اور اسے اتنا مضبوط و محکم بنایا ہے کہ انسانی عقل ہمیشہ سے محو حیرت رہی ہے، اور رہے گی اور اس نے رات کو تاریک بنایا ہے، جس کی تاریکی آسمان و زمین کو ڈھانک لیتی ہے اور اس نے آفتاب کی روشنی کے ذریعہ دن کو ظاہر کیا ہے تاکہ لوگ کاروبار حیات انجام دیں اور اس نے زمین کو پھیلا دیا ہے تاکہ لوگ اس پر زندگی گذار سکیں اور ایک جگہ سے دوسری جگہ سفر کرسکیں اور ایک جگہ سے دوسری جگہ سفر کرسکیں سورۃ یٰسین آیت (٨١) میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے : (اولیس الذی خلق السماوات و الارض بقادر علی ان یخلق مثلھم ) ” کیا جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا ہے وہ انسانوں جیسا دوبارہ پیدا کرنے پر قادر نہیں ہے“ اور سورۃ غافر آیت (٥٧) میں فرمایا ہے : (لخلق السماوات و الارض اکبر من خلق الناس) ” یقیناً آسمانوں اور زمین کی پیدائش آدمی کی تخلیق سے بڑی بات ہے۔ “