سورة المرسلات - آیت 29

انطَلِقُوا إِلَىٰ مَا كُنتُم بِهِ تُكَذِّبُونَ

ترجمہ فہم القرآن - میاں محمد جمیل

چلواس کی طرف جسے تم جھٹلایا کرتے تھے

تفسیر تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

(٨) جو لوگ دنیا کی زندگی میں آخرت اور عذاب نار کو جھٹلاتے تھے، قیامت کے دن ان سے جہنم پر مامور فرشتے کہیں گے کہ جس جہنم کی تم تکذیب کرتے تھے اس میں داخل ہوجاؤ، تم لوگ جہنم کے دھواں کے اس سائے کی طرف بڑھتے چلے جاؤ، جو اوپر اٹھتا چلا گیا ہے اور اوپر جا کر اپنی شدت سوزش کی وجہ سے تین مہیب شعلوں میں بٹ گیا ہے، وہ سایہ کسی درخت یا دیوار کے سائے کے مانند نہیں ہوگا جو آدمی کو دھوپ کی تمازت سے بچاتا ہے، اس لئے وہ جہنمی کو آگ کی تپش سے نہیں بچائے گا، وہ آگ ایسی ہوگی جسسے محلات و قصور کی مانند عظیم انگارے چھوٹتے رہیں گے، جو اپنی سیاہی اور زردی کی وجہ سے زردی مائل کالے اونٹوں کے مانند ہوں گے یعنی وہ انگارے نہایت ہی ہیبت ناک ہوں گے سورۃ الزمر آیت (16) میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے : (لھم من فوقھم ظلل من النارون تحتھم ظلل) ” جہنمیوں کے لئے ان کے اوپر سے آگ کے شعلے مثل سائبان کے ہوں گے اور ان کے نیچے سے بھی ویسے ہی آگ کے شعلے مثل سائبان کے ہوں گے“ اور سورۃ الاعراف آیت (41) میں فرمایا ہے : (لھم من جھنم مھادومن فوقھم غواش) ” جہنمیوں کے لئے جہنم کی آگ کا بچھونا ہوگا اور ان کے اوپر اسی کا اوڑھنا ہوگا“ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ہلاکت و بربادی ہے ان کے لئے جو دنیا میں روز آخرت، جنت، جہنم اور اللہ کے رسول اور اس کے قرآن کی تکذیب کرتے ہیں۔