سورة المرسلات - آیت 20

أَلَمْ نَخْلُقكُّم مِّن مَّاءٍ مَّهِينٍ

ترجمہ فہم القرآن - میاں محمد جمیل

کیا ہم نے تمہیں ایک حقیر پانی سے پیدا نہیں کیا؟

تفسیر تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

(٦) ان آیات کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے حضرت انسان کو اس کی حقیقت یاد دلائی ہے، جس کا تقاضا تھا کہ وہ کبر و غرور کے بجائے تواضح اختیار کرتا اور اللہ کی عظیم قدرت اور اس کے اتھاہ علم کا اعتراف کرتا، نیز اللہ تعالیٰ نے اس کے دل و دماغ میں عقیدہ بعث بعد الموت کو اتارنا چاہا کہ جس قادر مطلق نے تمہیں پہلی بار ایک قطرہ حقیر سے پیدا کیا ہے، وہ یقیناً تمہیں دوبارہ پیدا کرنے پر قادر ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : لوگو ! کیا ہم نے تمہیں حقیر پانی کے ایک قطرہ سے پیدا نہیں کیا ہے، ہم نے اس قطرے کو رحم مادر تک پہنچایا جہاں جا کر وہ قرار پا گیا اور وہاں ایک مدت معلوم تک ٹھہرا رہا، اس میں نمو ہوتا رہا یہاں تک کہ وہ ایک مکمل ذی روح بچہ بن کر باہر نکل آنے کے قابل بن گیا، اللہ نے فرمایا : وہ اللہ تھا جس نے اس قطرہ منی کو رحم کی تاریکیوں میں مختلف مراحل سے گذارا، اور اس میں روح پھونک کر اسے باہر نکالا وہ برحق اللہ بڑا ہی زبردست قدرت والا ہے اور وہی تمام تعریفوں کا تنہا حقدار ہے اس لئے ہلاکت و بربادی ہے ان مجرمین کے لئے جو اللہ کے قادر مطلق اور علام الغیوب ہونے کا انکار کرتے ہیں یا اس بارے میں شبہ کرتے ہیں کہ وہ مردوں کو دوبارہ زندہ کرنے پر قادر ہے۔