سورة القيامة - آیت 26

كَلَّا إِذَا بَلَغَتِ التَّرَاقِيَ

ترجمہ فہم القرآن - میاں محمد جمیل

ہرگز نہیں جب جان حلق میں اٹک جائے گی

تفسیر تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

(٨) اس آیت کریمہ میں بھی آیات (١/٢/٣) کی طرح مشرکین کے بعث بعدالموت کے بارے میں غلط عقیدے کی نفی کی گئی ہے، اور حضرت انسان کو مخاطب کر کے کہا گیا ہے کہ بات ویسی نہیں جیسی تم سمجھتے ہو کہ قیامت نہیں آئیگی اور تم دوبارہ زندہ نہیں کئے جاؤ گے، تم ضرور زندہ کئے جاؤ گے اللہ تعالیٰ نے مزید تاکید کے طور پر فرمایا : جب تمہاری روح حلق کی ہڈی تک پہنچ جائے گی اور تمہارے خویش و اقارب تمہارا حال زار دیکھ کر بے بسی میں پکار اٹھیں گے کہ کوئی ہے جو جھاڑ پھونک کے ذریعہ اس کی بیماری اور کرب و اذیت کو دور کر دے اور تمہیں یقین ہوجائے گا کہ اب تم اپنے اہل و عیال اور خویش و اقارب کو چھوڑ کر دنیا سے کوچ کر جاؤ گے، اس دن تم آخرت کی طرف سدھار جاؤ گے تمہارا جسم مٹی میں دفن کردیا جائے گا اور تمہاری روح تمہارے رب کے پاس پہنچا دی جائے گی۔ تاکہ قیامت کے دن وہ تمہیں زندہ کر کے تمہارے انجام کے بارے میں اپنا فیصلہ صادر فرمائے۔