سورة النسآء - آیت 62

فَكَيْفَ إِذَا أَصَابَتْهُم مُّصِيبَةٌ بِمَا قَدَّمَتْ أَيْدِيهِمْ ثُمَّ جَاءُوكَ يَحْلِفُونَ بِاللَّهِ إِنْ أَرَدْنَا إِلَّا إِحْسَانًا وَتَوْفِيقًا

ترجمہ فہم القرآن - میاں محمد جمیل

پھر کیا بات ہے کہ جب ان پر ان کے کردار کی وجہ سے کوئی مصیبت آتی ہے تو یہ تمہارے پاس آکر اللہ تعالیٰ کی قسمیں کھاتے ہیں کہ ہمارا ارادہ تو صرف بھلائی اور میل ملاپ کا تھا

تفسیر تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

70۔ رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو بشارت دی جارہی ہے کہ ان منافقین کو مصیبتیں لاحق ہوں گی، اور آپ کے پاس آکر اپنے اخلاص و ایمان کا اظہار کریں گے، اور قسمیں کھائیں گے کہ ان کا مقصد دونوں فریقوں میں صلح کرانا تھا