سورة الجن - آیت 3

وَأَنَّهُ تَعَالَىٰ جَدُّ رَبِّنَا مَا اتَّخَذَ صَاحِبَةً وَلَا وَلَدًا

ترجمہ فہم القرآن - میاں محمد جمیل

کیونکہ ہمارے رب کی شان بہت اعلیٰ اور ارفع ہے اس نے کسی کو اپنی بیوی یا اولاد نہیں بنایا ہے

تفسیر تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

(٢) جب اللہ تعالیٰ نے جنوں کو (قرآن سننے کے بعد) توحید و ایمان کی توفیق دی اور ایمان لانے سے پہلے عقیدہ توحید کے خلاف جن غلطیوں میں پڑے تھے ان کا انہیں احساس ہوا اور معلوم ہوگیا کہ اللہ تعالیٰ اپنی کسی مخلوق کے مشابہ نہیں ہے اور نہ اس کی کوئی بیوی ہے ہے اور نہ اولاد، تو اللہ تعالیٰ کی پاکی اور عظمت بیان کرتے ہوئے کہنے لگے کہ ہمارا رب عظمت و جلال والا ہے، وہی سب کا سچا پاکنہار ہے، اور سارے پاکیزہ نام اسی کے لئے ہیں، اس نے اپنے لئے نہ کوئی بیوی بنا لی ہے اس لئے کہ بیوی کا محتاج کمزور اور عاجز انسان ہوتا ہے، تاکہاپنے جسم میں ابھرتی ہوئی شہوت کو اس کے ساتھ اتصال کے ذریعہ پوری کرسکے اور نہ اس کی کوئی اولاد ہے، کیونکہ اولاد زن و شو کے شہوانی اتصال کے نتیجہ میں پیدا ہوتی ہے اور اللہ تعالیٰ کی کوئی بیوی نہیں۔ نیز کہنے لگے کہ ہم میں سے جو نادان افراد ہمیں گمراہ کرتے تھے، وہی یہود و نصاری اور مشرکین کی بات مانتے ہوئے اللہ تعالیٰ کے بارے میں یہ جھوٹ بات کرتے تھے کہ اس کی بیوی اور اولاد ہے اور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی زبانی قرآن سننے سے پہلے تک ہم یہی سمجھتے رہیتھے کہ جن اور انسان اللہ کے بارے میں جھوٹ نہیں بولتے ہیں۔