سورة الجن - آیت 1

قُلْ أُوحِيَ إِلَيَّ أَنَّهُ اسْتَمَعَ نَفَرٌ مِّنَ الْجِنِّ فَقَالُوا إِنَّا سَمِعْنَا قُرْآنًا عَجَبًا

ترجمہ فہم القرآن - میاں محمد جمیل

اے نبی فرما دیں کہ میری طرف وحی کی گئی ہے کہ 3 کے ایک گروہ نے قرآن کو غور سے سنا اور پھر جا کر اپنے ساتھی سے کہا کہ ہم نے ایک عجیب قرآن سنا ہے

تفسیر تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

(١) امام احمد، بخاری، مسلم اور ترمذی وغیرہ نے ابن عباس (رض) سے روایت کی ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی ایک جماعت کے ساتھ سوق عکاظ کی طرف روانہ ہوئے (جو اس زمانہ میں مکہ سے قریب ہی ایک بازار تھا) اس وقت شیاطین کو چھپ کر آسمان کی خبر سننے سے روک دیا گیا تھا اور اس کی کوشش کرنے والے شیاطین کو انگاروں سے مارا جانے لگات ھا، جب شیاطین بے مراد واپس آئے، تو ان کے ساتھیوں نے ان سے پوچھا کہ ماجرا کیا ہے؟ تو انہوں نے کہا کہ اب ہمیں آسمان کی خبر سننے سے قطعی طور پر روک دیا گیا ہے اور ہمیں انگاروں سے مارا جانے لگا ہے، شیاطین نے کہا : ضرور کوئی نئی بات ہوئی ہے جس کے سبب ہمیں آسمان کی خبریں سننے سے روک دیا گیا ہے۔ اس لئے تم مشرق و مغرب میں ہر طرف جاؤ اور حقیقت حال کا پتہ لگاؤ۔ چنانچہ جو شیاطین تہامہ کی طرف گئے وہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس وادی نخلہ میں پہنچ گئے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سوق عکاظ جانا چاہتے تھے اور اس وقت صحابہ کرام کے ساتھ فجر کی نماز پڑھ رہے تھے جنوں نے آپ کی تلاوت غور سے سننے کے بعد کہا کہ یہی وہ قرآن ہے جس نے ہمیں اب آسمان کی خبریں سننے سے روک دیا اور وہ مسلمان ہوگئے جب وہ جن اپنی قوم کے پاس آئے تو ان سے کہا، اے ہماری قوم ! ہم نے ایک عجیب قرآن سنا ہے جو سیدھی راہ کی طرف رہنمائی کرتا ہے، اس لئے ہم اس پر ایمان لے آئے ہیں اور اب ہم اپنے رب کے ساتھ کسی دوسرے کو شریک نہیں بنائیں گے، اسی موقع سے اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر (قل اوحی الہ انہ استمع نفرمن الجن) نازل فرمایا۔ ماوری نے لکھا ہے : ١۔ بظاہر جنوں نے آپ کی زبانی قرآن سنتے ہی اسلام کو قبول کرلیا تھا۔ ٢۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) انسانوں کی طرح جنوں کے لئے بھی رسول بنا کر مبعوث ہوئے تھے۔ ٣۔ قریش کو بتایا گیا ہے کہ جنوں نے قرآن سن کر اس کی معجزانہ شان کا اعتراف کرلیا اور رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر فوراً ایمان لے آئے۔ ٤۔ انسانوں کیطرح جن بھی احکام شرعیہ کے مکلف ہیں۔ ٥۔ جن ہماری باتیں سنتے ہیں اور ہماری زبانیں سمجھتے ہیں۔