سورة المعارج - آیت 36

فَمَالِ الَّذِينَ كَفَرُوا قِبَلَكَ مُهْطِعِينَ

ترجمہ فہم القرآن - میاں محمد جمیل

پس اے نبی ان لوگوں کو کیا ہے کہ آپ کی طرف دوڑے آرہے ہیں

تفسیر تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

(٩) نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے زمانے میں پائے جانے والے کفار و مشرکین ہر روز آپ کو دیکھتے تھے، آپ کے ذریعہ صادر ہونے والے معجزات کا مشاہدہ کرتے تھے اور ان کے سامنے قرآن کریم کی تلاوت ہوتی تھی، لیکن ان تمام چیزوں کا ان پر کوئی اثر نہیں ہوتا تھا۔ وہ گروہوں اور جماعتوں کی شکل میں آپ کی دعوت سے راہ فرار اختیار کرتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کافروں کی اسی قساوت قلبی اور شقاوت و بدبختی پر ان دونوں آیتوں میں حیرت کا اظہار کیا ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے سورۃ المدثر آیات (٤٩/٥٠/٥١) میں فرمایا ہے : (فما لھم عن التذکرہ صعر ضین، کانھم حمر مستنفرۃ، فرت من قسورۃ) ” انہیں کیا ہوگیا ہے کہ نصیحت سے منہ موڑ رہے ہیں گویا کہ وہ بد کے ہوئے گدھے ہیں، جوشیر سے بھاگے ہوں۔ “ عوفی نے ابن عباس (رض) سے ان دونوں آیتوں کا مفہوم یہ بیان کیا ہے کہ ان کافروں کو کیا ہوگیا ہے کہ یہ آپ کی طرفدیکھتے ہوئے، آپ کے دائیں اور بائیں سے آپ کا مذاق اڑاتے ہوئے بھاگتے ہیں۔ قتادہ نے ان کی تفسیر یہ بیان کی ہے کہ اہل کفر قصداً جماعتوں کی شکل میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے دائیں اور بائیں سے نکل کر چلے جاتے ہیں اور اللہ کی کتاب اور اس کے نبی کی سنت کو سننا نہیں چاہتے ہیں۔