سورة النسآء - آیت 33

وَلِكُلٍّ جَعَلْنَا مَوَالِيَ مِمَّا تَرَكَ الْوَالِدَانِ وَالْأَقْرَبُونَ ۚ وَالَّذِينَ عَقَدَتْ أَيْمَانُكُمْ فَآتُوهُمْ نَصِيبَهُمْ ۚ إِنَّ اللَّهَ كَانَ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ شَهِيدًا

ترجمہ فہم القرآن - میاں محمد جمیل

ماں باپ یا قرابت دار جو ترکہ چھوڑ جائیں ہم نے ہر شخص کے وارث مقرر کر دئیے ہیں اور جن سے تم نے معاہدہ کیا ہے انہیں ان کا حصہ دو۔ بے شک اللہ تعالیٰ ہر چیز پر گواہ ہے

تفسیر تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

41۔ اس آیت کریمہ کے پہلے حصہ میں اللہ تعالیٰ نے یہ خبر دی ہے کہ مرد ہو یا عورت، ہر ایک کے ورثہ اور رشتہ دار ہوتے ہیں، جو اس کے مرنے کے بعد اس کے مال کے وارث بنتے ہیں، جیسا کہ صحیحین میں ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا، میراث کے حصے ان کے حقداروں کو دو، اس کے بعد جو بچ جائیے وہ عصبہ یعنی سب سے قریبی مرد رشتہ دار کو دے دو۔ آیت کے دوسرے حصہ والذین عقدت ایمانکم کا مفہوم یہ ہے کہ تم نے حلف یا معاہدہ کسی کے ساتھ کیا تھا تو اس کا حصہ اسے دو، اس آیت کی تفسیر میں علماء کے کئی اقوال ہیں۔ ان تمام اقوال کو جمع کرنے اور ان پر غور کرنے کے بعد میں اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ یہ آیت جب نازل ہوئی تو ایک سابق حکم کے لیے ناسخ تھی، اور کچھ دنوں کے بعد ایک دوسری آیت کے ذریعہ اس میں موجود حکم بھی منسوخ ہوگیا، اس اجمال کی تفصیل مندرجہ ذیل ہے۔ مہاجرین جب مدینہ منورہ آئے، تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہر مہاجر کی ایک انصاری کے ساتھ اخوت قائم کردی، چنانچہ وہ مہاجر اپنے انصاری بھائی کا وارث ہوتا تھا، اس کے رشتہ دار اس کے وارث نہیں ہوتے تھے۔ جب یہ آیت نازل ہوئی تو سابق حکم منسوخ ہوگیا اور ہر انصاری کے قریبی رشتہ دار ہی اس کے وارچ ہونے لگے۔ امام بخاری رحمہ اللہ نے اس آیت کی تفسیر میں ابن عباس (رض) سے یہ روایت نقل کی ہے۔ اس کے بعد مہاجرین اور انصار کے درمیان تعاون، مدد اور آپس میں ایک دوسرے کی خیر خواہی کا تعلق رہ گیا، اور ایک تہائی مال میں وصیت کی گنجائش رہ گئی، اور وراثت کا حکم منسوخ ہوگیا۔ لیکن قبل از اسلام لوگوں کے درمیان حِلف اور معاہدے ہوا کرتے تھے۔ دو آدمی آپس میں معاہدہ کرلیتے تھے کہ وہ ایک دوسرے کے وارث ہوں گے۔ جب اسلام آیا تو اس طرح کے لوگ موجود تھے اور وہ اسلام بھی لے آئے تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کے معاہدوں کو باقی رکھا اور فرمایا کہ اسلام نے جاہلیت کے ہر حلف میں تاکید و شدت پیدا کردی ہے۔ البتہ آئندہ کسی نئے حلف کی نفی کردی اور فرمایا لا حلف فی الاسلام، یعنی اسلام میں کوئی حلف نہیں۔ اس طرح کے مسلمانوں کو ان کے حلیف مسلمانوں کے مرنے کے بعد وراثت کا چھٹا حصہ ملتا رہا۔ یہاں تک کہ سورۃ انفال کی آیت واولوا لارحام بعضہم اولی ببعض، نازل ہوئی اور حلفاء کے وارث بننے کا حکم بھی منسوخ ہوگیا، اور صرف قریبی رشتہ دار ہی میت کے وارث کی حیثیت سے باقی رہ گئے اور غیر رشتہ دار حلفاء کے درمیان والذین قدت ایمانکم فاتوھم نصیبھم کے بموجب ان کے آپس کا تعاون، مدد، اور خیر خواہی باقی رہ گئی، جو بہر حال اسلام میں مطلوب ہے۔ ابن جریر نے ابن عباس (رض) سے روایت کی ہے دو آدمی آپس میں اس بات کا معاہدہ کرتے تھے کہ ان میں جو پہلے مر جائے گا دوسرا اس کا وارث ہوگا، جب اللہ تعالیٰ نے واولوالارحام بعضہم اولی ببعض فی کتاب اللہ من المومنین والمہاجریننازل فرمایا تو غیر رشتہ دار کا وارث ہونا ممنوع قرار پا گیا۔ ابن عباس (رض) کا قول ہے کہ اس آیت کے بعد حلفاء کے لیے صرف وصیت کا دروازہ کھلا رہ گیا، جو میت اپنے مرنے سے پہلے کسی بھی غیر وارث آدمی کے لیے کرسکتا ہے۔ ابن عباس (رض) کے علاوہ دیگر کئی علمائے سلف نے کہا کہ یہ آیت، سورۃ انفال کی آیت واولو الارحام کے ذریعہ منسوخ ہوچکی ہے۔