سورة التغابن - آیت 7

زَعَمَ الَّذِينَ كَفَرُوا أَن لَّن يُبْعَثُوا ۚ قُلْ بَلَىٰ وَرَبِّي لَتُبْعَثُنَّ ثُمَّ لَتُنَبَّؤُنَّ بِمَا عَمِلْتُمْ ۚ وَذَٰلِكَ عَلَى اللَّهِ يَسِيرٌ

ترجمہ فہم القرآن - میاں محمد جمیل

انکار کرنے والوں نے بڑے دعوے سے کہا ہے کہ وہ مرنے کے بعد ہرگز نہیں اٹھائے جائیں گے ان سے فرمائیں کیوں نہیں میرے رب کی قسم تم ضرور اٹھائے جاؤ گے پھر ضرور تمہیں بتایا جائے گا کہ تم نے دنیا میں کیا کچھ کیا ہے اور ایسا کرنا اللہ کے لیے بہت آسان ہے

تفسیر تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

(6) اللہ تعالیٰ نے کافروں کے کبر و عناد اور ان کے اس زعم باطل کی تردید کی ہے کہ وہ دوبارہ زندہ نہیں کئے جائیں گے۔ اللہ نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو حکم دیا کہ وہ اپنے رب کی قسم کھا کر ان کے زعم باطل کی تردید کریں اور ان کے دل و دماغ میں یہ بات اتارنے کی کوشش کریں کہ قیامت ضرور آئے گی اور وہ دوبارہ یقیناً اٹھائے جائیں گے اور انہیں ان کے کرتوتوں کی خبر دی جائے گی اور ایسا کرنا اللہ کے لئے نہایت آسان ہے۔ حافظ ابن کثیر لکھتے ہیں : قرآن میں یہ تیسری آیت ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو بعث بعد الموت کی یقین دہانی کے لئے اپنے رب کی قسم کھانے کا حکم دیا ہے پہلی آیت سورۃ یونس (35) (ویستبؤنک احق ھو قل ای وربی انہ لحق) ہے، جس کا ترجمہ ہے ” اور وہ آپ سے دریافت کرتے ہیں کہ کیا عذاب آخرت واقعی سچ ہے۔ آپ فرما دیجیے کہ ہاں، قسم ہے میرے رب کی، وہ واقعی سچ ہے“ اور دوسری آیت سورۃ سبا (3) (وقال الذین کفروا الاتاتینا الساعۃ قلی بلی و ربی لتاتینکم) ہے، جس کا ترجمہ ہے :” اور کفار کہتے ہیں کہ ہم پر قیامت نہیں آئے گی، آپ کہہ دیجیے کہ ہاں، میرے رب کی قسم ! وہ تم پر یقیناً آئے گی۔ “